30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
انما قال صلی الله تعالٰی علیہ وسلم علی سبیل التمدح حتی ظھرت لمستوی اشارۃ لما قلنا من ان متھی السیر بالقدم المحسوس للعرش [1]۔ |
نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا بطور مدح ارشاد فرمانا کہ یہاں تک کہ میں مستوی پر بُلند ہوا اسی امر کی طرف اشارہ ہے کہ قدم جسم سے سیر کا منتہٰی عرش ہے۔ |
مدارج النبوۃ شریف میں ہے:
|
فرمود صلی الله تعالٰی علیہ وسلم پس گسترانیدہ شد برائے من رفرف سبز کہ غالب بود نور او پر نور نورآفتاب پس درخشید بآن نور بصر من ونہادہ شدم من برآں رفرف وبرداشتہ شدم تابرسید بعرش[2]۔ |
نبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:پھر میرے لئے سبز بچھونا بچھایا گیا جس کا نور آفتاب کے نور پر غالب تھا چنانچہ اس نور کے سبب میری آنکھوں کا نور چمك اٹھا،پھر مجھے رفرف پر سوار کر کے بُلندی کی طرف اٹھایا گیا یہاں تك کہ میں عرش پر پہنچا۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
آوردہ اند کہ چوں رسید آں حضرت صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بعرش دست زد بدامان اجلال وے [3]۔ |
منقول ہے کہ جب آنحضرت صلی الله تعالٰی علیہ وسلم عرش پر پہنچے تو عرش آپ کا دامن اجلال تھام لیا۔(ت) |
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ شریف میں ہے:
|
جز حضرت پیغمبرما صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بالاترازاں ہیچ کس نہ رفتہ وآنحضرت بجائے رفت کہ آنجاجانیست ؎ برداشت از طبیعت امکاں قدم کہ آں اسرٰی بعبدہٖ است من المسجد الحرام |
ہمارے نبی اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے علاوہ عرش سے اوپر کوئی نہیں گیا،آپ اس جگہ پہنچے جہاں جگہ نہیں۔ طبیعت امکان سے قدم مبارك اٹھالئے کہ الله تعالٰی نے اپنے خاص بندے کو سیرکرائی مسجد حرام سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع