30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
العالم کما سیأتی کل ذٰلك بجسدہ یقظہ [1]۔ |
اس کنارے تك کہ آگے لامکان ہے اوریہ سب بیداری میں مع جسم مبارك تھا۔ |
حضرت سید شیخ اکبرامام محی الدین ابن عربی رضی الله تعالٰی عنہ فتوحات مکیہ شریف باب ۳۱۶میں فرماتے ہیں:
|
اعلم ان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لما کان خلقہ القراٰن وتخلق بالاسماء وکان الله سبحٰنہ وتعالٰی ذکر فی کتاب العزیز انہ تعلاٰی استوی علی العرش علی طریق التمدح والثناء علی نفسہ اذ کان العرش اعظم الاجسام فجعل لنبیہ علیہ الصلٰوۃ والسلام من ھذا الاستواء نسبۃ علی طریق التمدح والثناء علیہ بہ حیث کان اعلی مقام ینتہی الیہ من اسری بہ من الرسل علیھم الصلٰوۃ و السلام وذٰلك یدل علی انہ اسری بہ صلی الله تعالٰی علیہ و سلم بجسمہ ولو کان الاسراء بہ رؤیا لما کان الاسراء ولا الوصلو الی ھذا المقام تمدحا ولا وقع من الاعرافی حقہ انکار علی ذٰلك[2]۔ |
تو جان لے کہ جب رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا خلق عظیم قرآن تھا اورحضور اسماء الہیہ کی خووخصلت رکھتے تھے اور الله سبحٰنہ وتعالٰی قرآن کریم میں اپنی صفات مدح سے عرش پر استواء بیان فرمایا تو اس نے اپنے حبیب صلی الله تعالٰی علیہ و سلم کو بھی اس سفت استواعلی العرش کے پر تو سے مدح و منقبت بخشی کہ عرش وہ اعلٰی مقام ہے جس تك رسولوں کا اسراء منتہی ہو،اوراس سے ثابت ہے کہ رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا اسراء مع جسم مبارك تھا کہ اگر خواب ہوتا تو اسرا اوراس مقام استواء علی العرش تك پہنچنا مدح نہ ہوتا نہ گنواراس پر انکار کرتے۔ |
امام علامہ عارف بالله سید ی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی کتاب الیواقیت والجواہر میں حضرت موصوف سے ناقل:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع