30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الریح التی غدوھا شھر ورواحھا شھر اعطی نبینا صلی الله تعالٰی علیہ وسلم البراق فحملہ من الفرش الی العرش فی لحظۃ واحدۃ واقل مسافۃ فی ذٰلك سبعۃ اٰلاف سنۃ۔وما فوق العرش الی المستوی والرفرف لایعلمہ الا الله تعالٰی [1]۔ |
کہ صبح شام ایك ایك مہینے کی راہ پر لے جاتی۔ہمارے نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو براق عطا ہوا کہ حضور کو فرش سے عرش تك ایك لمحہ میں لے گیا اوراس مین ادنٰی مسافت(یعنی آسمان ہفتم سے زمین تک)سات ہزار برس کی راہ ہے۔اوروہ جو فوق العرش سے مستوٰی اورفرف تك رہی اسے توخدا ہی جانے۔ |
اسی میں ہے:
|
لما اعطی موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام الکلام اعطی نبینا صلی الله تعالٰی علیہ وسلم مثلہ لیلۃ الاسراء و زیادۃ الدنو و الرویۃ بعین البصر وشتان مابین جبل الطور الذی نوجی بہ موسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام موما فوق العرش الذی نوجی بہ نبینا صلی الله تعالٰی علیہ وسلم [2]۔ |
جب موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کو دولت کلام عطاہوئی ہمارے نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو ویسی ہی شب اسراملی اورزیادت قرب اورچشم سر سے دیدارالٰہی اس کے علاوہ۔اوربھلاکہاں کو ہ طور جس پر موسٰی علیہ الصلوۃ والسلام سے مناجات ہوئی اور کہاں مافوق العرش جہاںہمارے نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے کلام ہوا۔ |
اسی میں ہے:
|
رقیہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ببدنہ یقظۃ بمکۃ لیلۃ ولاسراء الی السماء ثم الی سدرۃ المنتھٰی ثم الی المستوی الی العرش والرفرف والرویۃ[3]۔ |
نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے جسم پاك کے ساتھ بیداری میں شب اسراآسمانوں تك ترقی فرمائی،پھر سدرۃ المنتہٰی،پھر مقام مستویٰ،پھر عرش ورفرف ودیدار تک۔ |
علامہ احمد بن محمد صاوی مالکی خلویت رحمۃ الله تعالٰی تعلیقات افضل القرٰی میں فرماتے ہیں:
|
الاسراء بہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم |
نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو معراج بیداری |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع