30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زائد کی تصریحات جلیلہ فرمائی ہیں،اوریہ سب احادیث ہیں،اگرچہ احادیث مرسل یا ایك اصطلاح پر معضل ہیں،اورحدیث مرسل ومعضل باب فضائل میں بالاجماع مقبول ہے خصوصًا جبکہ ناقلین ثقات عدول ہیں اوریہ امر ایسا نہیں جس میں رائے کو دخل ہوتو ضرور ثبوت سند پر محمول،اورمثبت نافی پر مقدم،اورعدم اطلاع اطلاع عدم نہیں تو جھوٹ کہنے والا محض جھوٹا مجازف فی الدین ہے۔
امام اجل سید ی محمد بوصیری قدس سرہ،قصیدہ بردہ شریف میں فرماتے ہیں:ع
سریت من حرم لیلا الی حرم کما سری البدر فی داج من الظلم
وبت ترقی الی ان نلت منزلۃ من قاب قوسین لم تدرك ولم ترم
خفضت کل مقام بالاضافۃ اذ نودیت بالرفع مثل المفرد العلم
فخرت کل فخار غیر مشترك وجزت کل مقام غیر مزدحم[1]
یعنی یارسول الله !حضور رات کے ایك تھوڑے سے حصے میں حرم مکہ معظمہ سے بیت الاقصٰی کی طرف تشریف فرماہوئے جیسے اندھیری رات میں چودھویں کا چاند چلے،اورحضور اس شب میں ترقی فرماتے رہے یہاں تك کہ قاب قوسین کی منزل پہنچے جو نہ کسی نے پائی نہ کسی کو اس کی ہمت ہوئی۔حضور نے اپنی نسبت سے تمام مقامات کو پست فرمادیا،جب حضور رفع کے لئے مفرد علم کی طرح ندافرمائے گئے حضور نے ہر ایسا فخر جمع فرمالیا جو قابل شرکت نہ تھا اور حضور ہر اس مقام سے گزرگئے جس میں اوروں کا ہجوم نہ تھا یا یہ کہ حضور نے سب فخر بلا شرکت جمع فرمالئے اورحضور تمام مقامات سے بے مزاحم گزرگئے۔یعنی عالم امکان میں جتنے مقام ہیں حضور سب سے تنہا گزر گئے کہ دوسرے کو یہ امر نصیب نہ ہوا۔
علامہ علی قاری اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
|
ای انت دخلت الباب وقطعت الحجاب الی ان لم تترك غایۃ للساع الی السبق من کمال القرب المطلق الی جناب الحق ولا ترکت موضع رقی وصعود وقیام وقعود لطالب رفعۃ فی عالم الوجود |
یعنی حجور دروازہ میں داخل ہوئے اورآپنے یہاں تك حجاب طے فرمائے کہ حضر ت عزت کی جناب میں قرب مطلق کامل کے سبب کسی ایسے کے لئے جو سبقت کی طرف دوڑے کوئی نہایت نہ چھوڑی اورتما م عالم وجود میں کسی طالب بندلی کے لئے کوئی جگہ عروج وترقی یا اٹھنے بیٹھنے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع