30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مارأیت عندھا ؟قال رأیتہ عندھا یعنی ربہ [1]۔ |
پاس کیا دیکھا ؟فرمایا:مجھے اس کے پاس دیدار ہوایعنی رب کا۔ |
اٰثار الصحابہ
ترمذی شریف میں حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالٰی عنہما سے مروی:
|
اما نحن بنوھا شام فنقول ان محمدا رای ربہ مرتین [2]۔ |
ہم بنی ہاشم اہلبیت رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ بیشك محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے رب کو دوبار دیکھا۔ |
ابن اسحٰق عبدالله بن ابی سلمہ سے راوی:
|
ان ابن عمر ارسل الٰی ابن عباس یسألہ ھل راٰی محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ربہ،فقال نعم[3]۔ |
یعنی حضرت عبدالله بن عمر رضی الله تعالٰی عنہما نے حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالٰی عنہما سے دریافت کرابھیجا: کیا محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ؟ا نہوں نے جواب دیا:ہاں۔ |
جامع ترمذی ومعجم طبرانی میں عکرمہ سے مروی:
|
واللفظ للطبرانی عن ابن عباس قال نظر محمد الی ربہ قال عکرمۃ فقلت لابن عباس نظر محمد الی ربہ قال نعم جعل الکلام لموسٰی والخلۃ لابرٰھیم والنظر لمحمد صلی الله |
یعنی طبرانی کے الفاظ ہیں کہ حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالٰی عنہما نے فرمایا:محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔عکرمہ ان کے شاگردکہتے ہیں:میں نے عرض کی:کیا محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا؟ فرمایا:ہاں الله تعالٰی نے موسٰی کے لئے |
[1] الدرالمنثور فی التفسیر بالماثور بحوالہ ابن مردویہ تحت آیۃ ۱۷/۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/۱۹۴
[2] جامع الترمذی ابو اب التفسیر سورہ نجم امین کمپنی اردو بازا ر دہلی ۲/۱۶۱،الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل وامارؤیۃ لربہ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ فی البلاد العثمانیہ ۱/۱۵۹
[3] الدرالمنثور بحوالہ ابن اسحٰق تحت آیۃ ۵۳/۱۸ داراحیاء التراث العربی بیروت ۷/۵۷۰
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع