30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہابی اسے شرك کہتے ہیں،وہی حکم اس حدیث پر لازم۔
حدیث ۲۱۸:حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی الله تعالٰی عنہ قبل بعثت حضور پرنور سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یمن کو تاجرانہ جاتے تھے ایك پیر مرد عسکلان بن عواکر کے یہاں قیام فرماتے،وہ ان سے مکہ معظمہ کا حال پوچھتے تم میں کوئی مشہو ربُلند چرچے والا پیداہوا؟کسی نے تم پر تمہارے دین میں خلاف کیا؟ یہ انکار کرتے،جب بعد بعثت اقدس گئے پیر مرد نے کہا:میں تمہیں وہ بشارت دیتاہوں کہ کہ تمارے لئے تجارت سے بہتر ہے،الله تعالٰی نے تمہاری قوم سے نبی برگزیدہ مبعوث فرمایا،ان پراپنی کتاب اتاری،وہ اصنام سے روکتے اوراسلام کی طرف بلاتے ہیں،حق کا حکم دیتے اور اس کے فاعل ہیں،باطل سے منع کرتے اوراس کے مبطل ہیں،وہ ہاشمی ہیں۔اور تم اے عبدالرحمن ان کے ماموں !جلد پلٹو اوران کی خدمت وتصدیق کرو،اوریہ اشعار میری طرف سے انکی بارگاہ والا میں پہنچاؤ،چند اشعار دربارہ تصدیق رسالت واظہار شوق وعذر پیرانہ سالی واستعانت سرکار عالی صلوات الله وسلامہ علیہ کہے ازاں جملہ یہ دو۲شعر ؎
اذا نای بالدّیار بعد فانت حرزی ومستراجی
فکن شفیعی الٰی ملیك یدعوا البرایا الی الفلاحی
جبہ کہ شہروں کو دوری فاصلہ نے بعید کردیا،تو حضور میری پناہ اورمیری راحت ملنے کی جگہ ہیں۔توحضور میری شفیع ہوں اس بادشاہ کے یہاں جو مخلوق کو نجات کی طرف بلاتاہے۔
عبدالرحمن رضی الله تعالٰی عنہ نے واپس آکر یہ حال صدیق اکبر رضی الله تعالٰی عنہ سے گزارش کیا،انہوں نے فرمایا؛ یہ محمد بن عبدالله ہیں جنہیں الله عزوجل نے اپنی تمام مخلوق کی طرف رسول کیا صلی الله تعالٰی علیہ وسلم،تم ان کے حضور حاضرہو،یہ حاضر ہوئے،حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر تبسم فرمایا اور ارشاد ہوا:مین ایك سزا وار چہرہ دیکھتاہوں جس کے لئے خیر کی امدی ہے کہو کیا خبر ہے ؟انہوں نے عرض کی:کیسی ؟ فرمایا:پیام بھیجنے والے نے جو پیام ہمارے حضور بھیجا ہے وہ امانت ادا کرو،سنتے ہو اولاد حمیر خواص مومنین سے ہیں۔عبدالرحمن رضی الله تعالٰی عنہ سنتے ہی مسلما ن ہوئے،پھروہ اشعار حضور میں عرض کئے۔سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
رب مومن بی ولم یرنی ومصدق |
یعنی مجھ پر بعض ایمان لانے والے(ایسے ہیں) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع