30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عذر کیا۔پھر فرمایا۔انکار کیا۔عثمان غنی رضی الله تعالٰی عنہ کو خبر ہوئی،یہ شخص زمانہ جاہلیت میں ان کا دوست تھا اس سے باصرار تمام دس ہزار اشرفی دے کر خریدلیا،پھر حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی کہ حضور !اب وہ گھر میرا ہے فھل انت اٰخذھا ببیت تضمن لی فی الجنۃ کیا حضور مجھ سے ایك مکان بہشت کے عوض لیتے ہیں جس کے حضورمیرے لئے ضامن ہوجائیں۔قال نعم فرمایا:ہاں۔فاخذھا منہ وضمن لہ بیتًا فی الجنۃ واشھد لہ علی ذٰلك المومنین حضور نے ان سے وہ مکان لے کر جنت میں ان کے لئے ایك مکان کی ضمانت فرمائی اور مسلمانوں کو اس معاملہ پر گواہ کرلیا۔
|
احمد الحاکمی [1]فی فضائل عثمان عن سالم بن عبد الله بن عمر رضی الله تعالٰی عنہم۔ |
احمد حاکمی نے حضرت عثمان رضی الله تعالٰی عنہ کے فضائل میں سالم بن عبدالله بن عمر رضی الله تعالٰی عنہم سے روایت کیا۔(ت) |
حدیث ۲۱۳:کہ جب مہاجرین مکہ معظمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ طیبہ میں آئے یہاں کا پانی پسند نہ آیا شور تھا،بنی غفار سے ایك شخص کی مِلك میں ایك شیریں چشمہ مسمّٰی بہ رومہ تھا وہ اس کی ایك مشك نیم صاع کو بیچتے،سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے ان سے فرمایا:بعنیہا بعین فی الجنۃ یہ چشمہ میرے ہاتھ ایك چشمہ بہشت کے عوض بیچ ڈال۔عرض کی:یارسول الله! میری اورمیرے بچوں کی معاش اسی میں ہے مجھ میں طاقت نہیں۔یہ خبر عثمان غنی رضی الله تعالٰی عنہ کو پہنچی وہ چشمہ مالك سے پینتیس۳۵ ہزار روپے کو خریدلیا،پھر خدمت اقدس حضور سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر ہوکر عرض کی: یارسول الله اتجعل لی مثل الذی جعلت لہ عینا فی الجنۃ اشتریتھا یارسول الله !کیا جس طرح حضور اس شخص کو چشمہ بہشتی عطا فرماتے تھے اگر میں یہ چشمہ اس سے خرید لوں تو حضو رمجھے عطافرمائیں گے ؟قال نعم فرمایا:ہاں۔عرض کی: میں نے بِئر رومہ خرید لیا اورمسلمانوں پر وقف کردیا۔الطبرانی [2] فی الکبیر وابن عساکر عن بشیر رضی الله تعالٰی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع