30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ابو نعیم فی فضائل الصحابۃ رضی الله تعالٰی عنہم عن حذیفۃ بن الیمان رضی الله تعالٰی عنہما(ابن عدی ودارقطنی وابو نعیم نے فضائل صحابہ رضی الله تعالٰی عنہم میں حذیفہ بن الیمان رضی ا لله تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
کیوں وہابی صاحبو! غیر خداسے استعانت شرك تو نہیں،ایاك نستعین کے کیا معنی کہتے ہو۔
حدیث ۱۸۸:ایك مصری نے امیر المومنین فاروق اعظم رضی الله تعالٰی عنہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کی:
|
یا امیر المومنین عائذبك من الظلم۔ |
امیر المومنین !میں حضور کی پناہ لیتا ہوں ظلم سے۔ |
امیر المومنین نے فرمایا:عذت معاذًا،تو نے سچی جائے پناہ کی پناہ لی۔ہمارا مطلب توحدیث کے اتنے ہی لفظوں سے ہوگیا،پناہ لینے والوں نے امیر المومنین کی دہائی دی اورامیر المومنین نے اپنی بارگاہ کو سچی جائے پناہ فرمایا،مگرتتمہ حدیث بھی ذکر کریں کہ اس میں امیر المومنین کے کمال عدل کا ذکر ہے۔عمرو بن عاص رضی الله تعالٰی عنہ مصر پر امیر المومنین کے صوبیدار تھے،یہ فریادی مصری عرض کرتاہے کہ میں نے ان کے صاحبزادے کے ساتھ دوڑ لگائی میں آگے نکل گیا صاحبزادے نے مجھے کوڑے مارے اورکہا:میں دو معزز وکریم والدین کا بیٹاہوں۔اس کی فریاد پر امیر المومنین نے فرمان نافذ فرمایا کہ عمرو بن عاص مع اپنے بیٹے کے حاضر ہوں،حاضر ہوئے۔امیر المومنین نے مصری کو حکم دیا:کوڑالے اور مار۔اس نے بدلہ لینا شروع کیا۔اورامیر المومنین فرماتےجاتے ہیں:مارد ولئیموں کے بیٹے کو۔انس رضی الله تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:خدا کی قسم !جب اس فریاد نے مارنا شروع کیا ہمارا جی یہ چاہتا تھا کہ یہ مارے اوراپنا عوض لے۔اس نے یہاں تك مارا کہ ہم تمنا کرنے لگے کاش !اپنا ہاتھ اٹھا لے۔ جب مصری فارغ ہوا امیر المومنین نے فرمایا:اب یہ کوڑا عمرو بن عاص کی چند یا پر رکھ(یعنی وہاں کے حاکم تھے انہوں نے کیوں نہ داد رسی کی،بیٹے کا کیوں لحاظ پاس کیا)مصری نے عرض کی:یا امیر المومنین !ان کے بیٹے ہی نے مجھے مارا تھا اس سے میں عوض لے چکا۔امیر المومنین رضی الله تعالٰی عنہ نے عمر وبن عاص رضی الله تعالٰی عنہ سے فرمایا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع