30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث ۱۷۸و۱۷۹:ترمذی وحاکم حضرت ابوہریرہ اور امام احمد وابو داود طیالسی وابن سعد وطبرانی وبیہقی حضرت عبدالله بن عباس رضی الله تعالٰی عنہم سے راوی،رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:جب حضرت عزت جل وعلانے آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو پیداکیا ان کی پیٹھ کو مسح فرمایا جس قدر لوگ ان کی نسل سے قیامت تك پیداہونے والے تھے سب ظاہر ہوگئے۔رب عزوجل نے ہرایك کی دونوں آنکھوں کے بیچ میں ایك نور چمکایا پھرانہیں آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام پر پیش فرمایا۔عرض کی:الٰہی ! یہ کون ہیں؟ فرمایا:تیری اولاد ہیں۔آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام نے ان میں ایك مرد کو دیکھا ان کی پیشانی کا نور انہین بہت بھایا،عر کی:الٰہی !یہ کون ہے ؟فرمایا:یہ تیری اولاد سے پچھلی امتوں میں ایك شخص داود نام ہے۔عرض کی:الٰہی ! اس کی عمر کتنی ہے ؟ فرمایا:ساٹھ برس۔عرض کی:الٰہی !اس کی عرم زیادہ فرما۔رب جل وعلا نے فرمایا:لا الا ان تزید انت من عمرك میں زیادہ نہ فرماؤں گا مگر یہ کہ تو اپنی عمر سے اس کی عمر میں زیادت کردے۔(آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کی عمر کے ہزار برس تھے۔)عرض کی:تو میری عمر سے چالیس سال اس کی عمر میں بڑھا دے۔فرمایا:ایسا ہے تو لکھ لیا جائے گا اورمہر کرلیجائیگی اورپرھ بدلے گا نہیں(نوشتہ لکھ کر ملائکہ کی گواہیاں کرای گئیں)فلما انقضی عمر اٰدم الا اربعین جاء ہ ملك الموت فقال اٰدم اولم یبق من عمری اربعون سنۃ قال اولم تعطھا ابنك۔داؤدجب آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کی عرم سے صرف چالیس برس باقی رہے یعنی نو سو ساٹھ برس گزر گئے ملك الموت علیہ الصلوۃ والسلام ان کے پاس آئے۔فرمایا:کیا میری عمر سے ابھی چالیس سال باقی نہیں ؟کہا:کیا آپ اپنے بیٹے داود علیہ الصلٰوۃ والسلام کو نہ دے چکے(پھر الله عزوجل نے آدم علیہ الصلٰوۃ والسلام کے لیے ہزار اورداود علیہ الصلٰوۃ والسلام کے لئے سو برس پورے کردیے)ھذا حدیث ابی ھریرۃ [1]الا ما بین الخطین
[1] سنن الترمذی کتاب التفسیر سورۃ الاعراف حدیث ۳۰۸۷دارالفکر بیروت ۵ /۵۳،المستدرك للحاکم کتاب الایمان قصہ خلق آدم علیہ السلام دارالفکر بیروت ۱/۶۴،السنن الکبرٰی للبیہقی کتاب الشہادات باب الاختیار فی الاشہاد دار صادر بیروت ۱۰/۱۶۴،مسند احمد بن حنبل عن ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت۱/۲۵۱و۲۵۲ (باقی برصفحہ آئندہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع