30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے نہیں بچاسکتے تم ایك بڑھیا کو جنت پھنٹائے دیتے ہو،اپنی گرمجوشی اٹھا رکھو،تقویۃ الایمان میں آچکا ہے کہ "ہمارے یہاں کا معاملہ ہرشخص اپنا درست کرلے[1]"بَلکہ علی الرغم الٹا یہ حکم آتاہے کہ موسٰی!تم اسے جنت کا یہ عالی درجہ عطاکردو۔اب کہئے یہ بیچارہ کس کا ہوکر رہے جس کے لئے توحید بڑھانے کو تمام انبیاء سے بگاڑی،دین وایمان پر دولتّی جھاڑی،صاف کہہ دیا کہ:''خدا کے سوا کسی کو نہ مان اوروں کو ماننا محض خبط ہے[2]۔''
اسی خدا نے یہ سلوك کیا اب وہ بیچارہ ازیں سوماندہ وزآں سو راندہ(نہ ادھر کا رہا نہ ادھر کا۔دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔ت)سوا اس کے کیا کرے کہ اپنی اکلوتی چمر توحید کا ہاتھ پکڑ کر جنگل کو نکل جائے اور سر پر ہاتھ رکھ کر چلّائے ؎
مازیاراں چشم یاری داشتیم خود غلط بودانچہ ماپنداشتیم
(ہم نے دوستوں سے مدد کی امید رکھی،جو ہمارا گمان تھا وہ خود غلط تھا۔ت)
مجھے امام الوہابیہ کے حال پر ایك حکایت یاد آئی اگرچہ میں ذکر احادیث میں ہوں مگر بمناسبت محل ایك آدھ لیطف بات کا ذکر خالی از لطف نہیں ہوتا جسے تمحیض کہتے ہیں اوریہ بھی سنت سے ثابت ہے کما فی حدیث خرافۃ و ام زرع(جیسا کہ خرافہ اورام زرع کی حدیث میں ہے۔ت)میں نے ایك عالم سنت رحمۃ الله تعالٰی علیہ کو فرماتے سنا کہ رافضیوں کے کسی محلے میں چند غریب سنی رہتے تھے،روافض کا زور تھا ان کا مجہتد پچھلے پہر سے اذان دیتا اور اس میں کلمات ملعونہ بکتا،ان غریبوں کے قلب پر آرے چلتے،آخر مرتاکیا نہ کرتا،چارشخص مستعد ہوکر پہلے سے مسجد میں جا چھپے،وہ اپنے وقت پر آیا جبھی تبرا شروع کیا،ان میں سے ایك صاحب برآمد ہوئے اوراس بڈھے کو گرا کر دست ولکد ونعل سے خوب خدمت کی کہ ہیں میں ابو بکر ہوں تومجھے برا کہتاہے۔آخر اس نے گھبرا کر کہا حضرت!میں آپ کو نہیں کہتا تھا میں نے تو عمر کو کہا تھا۔دوسرے صاحب تشریف لائے اور مارتے مارتے بیدم کردیا کہ ہیں مجھے کہتا تھا،یا حضرت!توبہ ہے میں تو عثما ن کو کہتا تھا۔تیسرے صاحب آئے اورایسی ہی تواضع فرمائی کہ ہیں مجھے کہے گا۔اب سخت گھبرایا بیتاب ہوکر چِلّایا کہ مولٰی دوڑیئے دشمن مجھے مارے ڈالتے ہیں۔اس پر چوتھے حضرت ہاتھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع