30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور کہاں میں،کہاں ان کی صاحبزادی اورکہاں تم،کہاں صرف دوزخ سے نجات اورکہاں جنت،اور جنت کا بھی ایسا اعلٰی درجہ بخش دینا۔بھلا بڑی بی!تم مجھے خدا بنا رہی ہو،پہلے تمہارے لئے کچھ امید ہو بھی سکتی تو اب تو شرك کر کے تم نے جنت اپنے اوپر حرام کرلی۔افسوس کہ موسٰی کلیم علیہ الصلٰوہ والتسلیم نے کچھ نہ فرمایا،اس بھاری شرك پر اصلًا انکار نہ کیا۔
خامسًا:درکنار اوررجسٹری کہ سلی الجنۃ اپنی لیاقت سے بڑھ کر تمنا نہ کر و ہم سے جنت مانگ لو ہم وعدہ فرماچکے ہیں عطا کردیں گے تمہیں یہی بہت ہے۔افسوس موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام سے کیا شکایت کہ امام الوہابیہ اگرچہ یہودی خیالات کا آدمی ہے جیسا کہ ابھی آخر وصل اول میں ثابت ہوچکا ہے مگراپنے آپ کو کہتا تو محمدی ہے،خود محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے اس کے جدید قرآن تقویۃ الایمن کو جنہم پہنچایا۔ربیعہ رضی الله تعالٰی عنہ نے حضور سے جنت کا سب سے اعلٰی درجہ مانگا،اس عظیم سوال کے صریح شرك پر انکار نہ فرمایا بَلکہ صراحۃً عطافرمادینے کو متوقع کردیا اب اگر وہ جل جل کر ان کی توہین نہ کرے ان کا نام سَوسَو گستاخیوں سے نہ لے تو اورکیا کرے بیچاہر کلیم کا مردود حبیب کا مارا اپنے جلے دل کے پھپھولے بھی نہ پھوڑے،مثل مشہور ہے کسی کا ہاتھ چلے کسی کی زبان۔
|
" وَ لِلہِ الْعِزَّۃُ وَ لِرَسُوۡلِہٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ وَ لٰکِنَّ الْمُنٰفِقِیۡنَ لَا یَعْلَمُوۡنَ ٪﴿۸﴾ "[1]۔ |
اورعزت الله کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اورمومنین کے لیے،لیکن منافقین نہیں جانتے۔(ت) |
سادسًا:سب فیصلوں کی انتہا خدا پر ہوتی ہے،کلیم علیہ الصلٰوۃ والتسلیم نے امام الوہابیہ سے یہ رکھائی برتی تو اسے جائے عزر تھی کہ موسٰی بدین خود مابدین خود حبیب صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے تقویۃ الایمان کی یہ صریح تذلیل وتضلیل فرمائی تو اسے آنسو پوچھنے کو جگہ تھی کہ وہ نبی امی ہیں پڑھے لکھے نہیں کہ تقویۃ الایمان پڑھ لیتے ان احکام جدیدہ سے آگاہوتے مگر پورا قہر تو خدا نے توڑا کہ بڑی بی کے شرك اورموسٰی کے اقرار کوخوب مسجّل ومکمل فرمادیا۔وحی آئی تو کیا آئی کہ اعطھا ذٰلك موسٰی!یہ جو مانگ رہی ہے تم اسے عطا کر بھی دو اس بخشش فرمانے میں تمہارا کیا نقصان ہے۔واہ ری قسمت یہ اوپر کا حکم تو سب سے تیز رہا،یہ نہیں فرمایا جاتاکہ موسٰی!تم ہوکون بڑھ بڑھ کر باتیں مارنے والے،ہمارے یہاں کے معاملے کا ہمارے حبیب کو تو ذرہ بھراختیار ہے ہی نہیں یہاں تك کہ خود اپنی صاحبزادی کو دوزخ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع