30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنے اختیار کی ہوں بھلا جنت اورجنت کا بھی ایسادرجہ یہ خد اکے گھر کے معاملے میں ان میں میرا کیا اختیار تو نے نہیں سنا کہ وہابیہ کے امام شہید اپنے قرآن جدید نام کے تقویۃ الایمان اورحقیقت کے کلمات کفر وکفران میں فرمائیں گے کہ:
''انبیاء میں اس بات کی کچھ بڑائی نہیں کہ الله نے انہیں عالم میں تصرف کی کچھ قدرت دی ہو۔[1]''
میں تو میں مجھ سے اورتمام جہان سے افضل محمدرسول الله خاتم المرسلمین صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت ان کی وحی باطنی میں اترے گا کہ:''جس کا نام محمد ہے وہ کسی چیز کا مختار نہیں [2]۔''
خود انہیں کے نام سے بیان کیا جائے گا کہ:''میری قدرت کا حال تو یہ ہے کہ اپنی جان تك کے بھی نفع ونقصان کا مالك نہیں تو دوسرے کا کیا کرسکوں[3]۔''
نیز کہا جائے گا:''پیغمبر نے سب کو اپنی بیٹی تك کو کھول کر سنادیا کہ قرابت کا حق ادا کرنا اسی چیز میں ہوسکتاہے کہ اپنے اختیار میں ہو سو یہ میرا مال موجد ہے اس میں مجھ کو کچھ بخل نہیں اورالله کے یہاں کا معاملہ میرے اختیار سے باہر ہے وہاں میں کسی کی حمایت نہیں کرسکتا اورکسی کا وکیل نہیں بن سکتا سو وہاں کا معاملہ ہر کوئی اپنا اپنا درست کرلے اوردوزخ سے بچنے کی ہر کوئی تدبیرکرے [4]۔''
بڑی بی!کیا تم سَٹھ گئی ہو،دیکھو تقویۃ الایمان کیا کہہ رہی ہے کہ رسول بھی کون،محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔او رمعاملہ بی کس کا،خود ان کے جگر پارے کا۔اور وہ بھی کتنا کہ دوزخ سے بچالینا اس کا تو انہیں خود اپنی صاحبزادی کے لئے کچھ اختیار نہیں وہ الله کے یہاں کچھ کام نہیں آسکتے تو کہاں وہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع