30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
داخل فی عموم فلان فیجوز ان یقال ماشاء الله ثم ماشاء محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ولا یجوز ان یقال ما شاء الله وشاء محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم [1]اھ اقول:ولو استحضر حدیث ابن ماجۃ لم یحتاج الی عموم فلان کما ان السائل لو استظھر لما سائل کما ان المحبیبین لو تذکروہ لما ذھبوا الی ھنا وھنا فسبحان من لایعزب عنہ شیئ۔ |
مندفع ہے،کیونکہ بنی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فلان کے عموم میں داخل ہیں،اس لئے ماشاء الله ثم ماشاء محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کہنا جائز ہے اور ماشاء الله وشاء محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کہنا جائز نہیں ہے۔ اقول:(میں کہتاہوں)اگر ملا علی قاری کو ابن ماجہ کی حدیث مستحضر ہوتی تو انہیں فلان کے عموم کی حاجت نہ ہوتی اوریہ حدیث سائل کے پیش نظر ہوتی تو وہ سوال ہی نہ کرتا اور جواب دینے والے حضرات کو یاد ہوتی تو انہیں طرح طرح کی توجیہوں کی ضرورت نہ پڑتی۔پاك ہے وہ ذات جس سے کوئی چیز مخفی نہیں رہتی۔(ت) |
الحمدللہ!یہ وصل مبارك کہ اعظم مقصد کتاب تھا بروجہ احسن واجمل اختتام کو پہنچا اورہنوز اس کی ابحاث میں ردّوہابیت کا بہت کلام باقی جس کا بعض ان شاء الله العزیز خاتمہ کتاب میں مذکور ہوگا،یہاں تك اس باب میں وجہ دوم پر بعد اسم پاك جامع ایك سو چودہ حدیثیں متعلق بذات اقدس حضوراکرم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم مذکورہوئیں اوربعض آئندہ آتی ہیں اورپچاس حدیثیں کہ ہم نے شمار کر کے شمار نہ کیں علاوہ ہم ابنائے زماں میں کسل وتقاعد ہے،لہذا بخوف ملالت زیادہ اطالت نہ کیجئے اوربتوفیقہ تعالٰی بقیہ وصلوں کے وصل سے راحت وبرکت لیجئے وبالله التوفیق۔
وصل دوم
احادیث متعلقہ بحضرات انبیاء و اولیاء علیھم الصلٰوۃ والثناء
حدیث ۱۷۵:طبرانی معجم اوسط اورخرائطی مکارم الاخلاق میں امیر المومنین مولاعلی کرم الله تعالٰی وجہہ الکریم سے راوی،رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے جب کوئی شخص سوال کرتا اگر حضور کو منطور ہوتا نعم فرماتے یعنی اچھا،اورنہ منظور ہوتا تو خاموش رہتے،کسی چیز کو لایعنی نہ فرماتے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع