30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ولو ترکہا ثمہ لقال قولوا ماشاء الله وحدہ،ثم قال مع المشیئۃ المسندۃ الی فلان انما ھی مشیئۃ جزئیۃ لا یجوز حملھا علی المشیئۃ الکلیۃ کما رمزنا الیہ فیما سبق من الکلام [1]اھ۔
اقول:ھٰذا شیئ متحاز عن البحث ومشیئۃ النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ایضًا لاتحیط بجمیع مرادات الله تعالٰی سبحٰنہ ھٰذا قد کان افادۃ العلامۃ الطیبی وجھا رابعًا وھو انہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قال ھذا ای قولوا ما شاء الله وحدہ دفعا لمظنۃ التھمۃ قولھم ما شاء الله وشاء محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم تعظما لہ وریاء لسمعتہ[2]اھ۔
اقول:ای والمظنۃ بحالھا فی ذکر اسمہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ولو بثم فعدل الٰی ذکر الله تعالٰی وحدہ ولیس یرید ان المظنۃ نشأت |
ذکر کیا جاتا تو "ثم"کے ساتھ عطف جائز ہوتااوراگر اس جگہ لفظ"لٰکن"ترك کردیا جاتا تو فرماتے کہ کہو "ماشاء الله وحدہ"پھر علامہ قاری نے فرمایاکہ فلاں کی طرف جس مشیت کی نسبت کی گئی ہے وہ مشیت جزئیہ ہے اسے مشیت کلیہ پر محمول کرنا جائز نہیں ہے،جیسا کہ ہم کلام سابق اسکی طرف اشارہ کرچکے ہیں۔اھ اقول:(میں کہتاہوں)یہ بحث سے علیحدہ چیز ہے،نبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی مشیت بھی الله تعالٰی کی تمام مرادوں کا احاطہ نہیں کرتی۔اسکو یادکرلو۔علامہ طیبی نے ایك چوتھی وجہ بھی بیان کی تھی اوروہ یہ کہ نبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ ''کہو ماشاء الله وحدہ،''اس لئے کہ اگر صحابہ کرام یوں کہتے ''ما شاء الله وشاء محمد ''تو اس میں آپ کی عظمت کے بطور ریاء وسمعہ اظہار کے وہم کا گمان ہوتا،اس وہم کو دور کرنے کے لیے فرمایا کہ کہو''ماشاء الله وحدہ۔'' اقول:نبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا نام پاك لفظ"ثم " کے ساتھ بھی ذکر کیاجاتاہے تب بھی وہ وہم برقرار رہتا،اس لئے وہاں بھی صرف الله تعالٰی کاذکر ہونا چاہیے تھا،ان کا مقصد یہ نہیں ہے کہ وہم لفظ ''واؤ''کی وجہ سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع