30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
بین مشیئتہ ومشیئۃ غیرہٖ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم حیث ذکر الاولٰی بثم وطوی ذکر ھذہٖ رأسًا وھذا مستفاد من کلامہٖ مابین وجہٍ کما سمعت منا تقریرہ،فلا ادری مالمراد بذالایراد ثم افادہ وجہ اٰکر للفرق فقال ماسبق م قولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ولٰکن قولوا ماشاء الله ثم شاء فلان لمجرد الرخصۃ ولوقال ھنا قولوا ماشاء الله ثم شاء محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لکان امر وجوب اوندب ولیس الامر کذٰلك [1]اھ۔
اقول:کانہ یستنبط من ترك لفظۃ لٰکن ھٰھنا فانہ، یکون حینئذٍ امرًا مقصودًا واقلہ الندب بخلاف الاول فانہ استدراك علی النھی فیفید مجرد الرخسۃ ھٰذا ما ظھرلی فی تقریر مرامہ وانت تعلم انہ یرجع الفرق علی ھذا الٰی جھۃ العبارۃ فلو ذکر ھٰھنا لکن لساغ ان یذکر العطف بثم |
مقصد تویہ تھا کہ وہی نبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اور دوسروں کی مشیت میں فرق ظاہر کریں،کیونکہ نبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فلاں کی مشیت کا ذکر لفظ"ثم" کے ساتھ کردیا لیکن اپنی مشیت کا ذکر نہیں فرمایا۔یہ فرق ان کے ایك وجہ کے بیان سے مستفاد ہے جیسا کہ آپ ہم سے اس کی تقریر سن چکےہیں،مجھے معلوم نہیں ہوسکا کہ اس اعتراض سے انکا مقصد کیا ہے۔پھر فرق کی ایك اوروجہ بیان کرتے ہوئے ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ اس سے پہلے نبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا جوفرمان گزرچکا ہے ''لیکن کہو جو چاہے الله تعالٰی پھر چاہے فلاں ''یہ محض رخصت کیلئے ہے اوراگر اس جگہ یوں فرماتے ''کہو جو چاہے الله پھر چاہیں محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم''تو یہ امر وجوب یا استحباب کے لئے ہوتا، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔اھ۔ اقول:دوسرے ارشاد میں لفظ "لکن"مذکور نہیں ہے۔گویا کہ ملا علی قاری اس سے اس بات کا استنباط کرتے ہیں کہ اس صورت میں امر مقصودی ہوگا جو کم از کم استحباب کے لیے ہوتاہے برخلاف پہلے ارشاد کے کہ وہاں نہی کے بعد لفظ "لکن"استدراك کیلئے ہے اس لئے محض رخصت کا فائدہ دے گا۔یہ وہ بات ہے جو انکے مقصد کی وضاھت کیلئے مجھے ظاہر ہوئی ہے۔قارئین کرام!آپ جانتے ہیں کہ اس تقریر کے مطابق فرق عبارت |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع