30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اورجب بحمدہٖ تعالٰی ہم خود حدیث سے ماشاء الله ثم شاء فلان کی طرح ماشاء الله ثم شاء محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی بھی اجازت دکھاچکے تو اب اصلًا ہمیں ان نکات وتوجیہات کی حاجت نہ رہی جو شراح نے اس روایت منقطعہ اوراس حدیث مستقل میں بظاہر ایك نوع تغایر کے لحاظ سے ذکر کئے ہیں۔شیخ محقق قدس سرہ،نے یہاں یہ نکتہ ذکر فرمایا:
|
دریں جا غایت بندگی وتواضع وتوحید ست زیرا کہ آنحضرت صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اسناد مشیت اگرچہ بطریق تاخر و تبعیت باشد تجویز کردامادرحق خود بآں نیز راضی نہ شد بَلکہ امر کر دباسناد مشیت بہ پروردگار تعالٰی تنہا بے توہم شرکت[1]۔ |
یہاں انتہائی بندگی،انکساری اورتوحید ہے،کیونکہ رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے غیر کی طرف اسناد مشیت کو جائز قرار دیا اگرچہ بطور تاخر وتبعیت،لیکن اپنے لئے اس کی بھی اجازت دینے پر راضی نہ ہوئے بَلکہ فقط پروردگار عالم کی طرف بے توہم شرکت مشیت کا اسناد کرنے کا حکم دیا۔(ت) |
اقول:یہ توجیہہ بھی شرك امام الوہابیہ کی کیفر چشانی کو بس ہے۔سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے تواضعًا اپنی مشیت کا ذکر کرنے کو نہ فرمایا اوروں کے ذکر مشیت کی اجازت دی،اگر شرك ہو تو معاذالله یہ ٹھہرے گی کہ حضور انے اپنی ذات کریم کو شریك خدا کرنے سے منع فرمایا اورزید عمرکو شریك کردینا جائز رکھا۔علامہ طیبی نے ایك اورتوجیہ لطیف ودقیق کی طرف اشارہ کیاکہ:
|
انہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم رأس الموحدین ومشیئتہ، معمورۃ فی مشیئۃ الله تعالٰی ومضمحلۃ فیھا[2]۔ |
نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سردار موحّدین ہیں اورحضور کی مشیئت الله عزوجل کی مشیئت میں مستغرق وگم ہے۔ |
اقول:تقریر اس اشارہ لطیفہ کی یہ ہے کہ عطف واؤسے ہو خواہ ثم خواہ کسی حرف سے،معطوف ومعطوف علیہ میں مغایرت چاہتا ہے بَلکہ ثم بوجہ افادئہ فصل وتراخی زیادہ مفید مغایرت ہے اورسید الموحدین صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے لئے کوئی مشیئت جداگانہ اپنے رب عزوجل کی مشیئت سے رکھی ہی نہیں انکی مشیئت بعینہٖ خدا کی مشیئت ہے اورمشیئت خدا بعینہٖ ان کی مشیئت،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع