30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس مشیت مبارکہ عطائیہ کے باعث صحابہ کرام نام الٰہی عزوجل کے ساتھ حضو اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا نام پاك ملا کر کہا کرتے تھے کہ الله ورسول چاہیں تو یہ کام ہوجائے گا مگر از انجاکہ طریق ادب سے اقرب وانسب یہ ہے کہ مشیت ذاتیہ ومشیت عطائیہ میں فرق مراتب نفس کلام سے واضح ہوکہ کسی احمق کو توہّم مساوات نہ گزرے سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو اس کلمے پر خیال گزرتاتھا پھر ملاحظہ فرماتے کہ یہ اہل توحید ہیں معنی حق وصدق انہیں ملحوظ ہیں محبت خدا اوررسول اورنام پاك خلیفۃ الله الاعظم جل جلالہ و صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے تبرك وتوسل انہیں اس قول پر باعث ہے اوربات فی نفسہٖ شرعًا ممنوع نہیں کہ واؤمطلق جمع کے لیے ہے نہ مساوات عــــــہ نہ معیت کے واسطے،لہذا
|
عــــــہ:اقول: وھذا نکتۃ غفل عنہا بعض الجلۃ فجوز ماشاء الله ثم شاء محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وزعم ان لواتی بالواو لکان شرکا جلیا فانما یتم ان کانت الواو المستویۃ وھو باطل قطعا قال تعالٰی" اِنَّ اللہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ"[1] قال تعالٰی" اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ"[2] الٰی غیر ذٰلك مما لایحصی ومع ذٰلك بحمدلالہ لیس ملحظہ ملحظ ھٰؤلاء الا بخاس الجاعلۃ اثبات المشیئۃ للنبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم |
اقول:(میں کہتاہوں)اس نکتہ کی طرف بعض بزرگوں کی توجہ نہ ہوئی،چنانچہ انہوں نے یوں کہنے کو تو جائز قرار دیا کہ ''جو چاہے الله پھر چاہیں محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ''مگر گمان کیا کہ اگر ثم کی جگہ واو ہو توشرك جلی ہوگا۔لیکن یہ استدلال توتب تام ہوتا اگر واو مقتضی مساوات ہوتی،حالانکہ یہ قطعا باطل ہے۔الله تعالٰی نے فرمایا:بے شك الله تعالٰی اوراس کے فرشتے نبی کریم پر درود بھیجتے ہیں۔اورفرمایا:الله اوراس کے رسول نے غنی کردیا۔اس کے علاوہ بھی متعدد مقامات پر ایسا ہی ہے مگر باوجود اس عدم توجہ کے ان بزرگوں کا مطمع نظر بحمدلله وہ نہیں جو ان کمینے وہابیوں کا ہے جو نبی کریم صلی الله (باقی اگلے صفحہ پر) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع