30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یا الله اورتم چاہو تو یوں ہوگا شائع وذائع تھا اورحضور سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اس پر مطلع تھے اور انکار نہ فرماتے تھے بَلکہ اس عالم یہود کے ظاہر الفاظ تو یہ ہیں کہ حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم خود بھی ایسا فرمایا کرتے تھے،امام الوہابیہ اسے شرك کہتاہے،تو ثابت ہوا کہ اس کے نزدیك صحابہ کرام رضی الله تعالٰی عنہم شرك کرتے تھے اورسید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم منع نہ فرماتے تھے۔
ثانیًا:حدیث طفیل رضی الله تعالٰی عنہ کے لفظ دیکھو کہ سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:''اس لفظ کا خیال مجھے بھی گزرتا تھا مگر تمہارے لحاظ سے منع نہ کرتا تھا۔''جب یہ لفظ امام الوہابیہ کے نزدیك شرك ٹھہرا تو معاذالله نبی نے دانستہ شرك کو گواراکیا اوراس سے ممانعت پر اپنے یاروں کے لحاظ پاس کو غلبہ دیا اور امام الوہابیہ کے یہاں یہ نبوت کی شان ہے،والعیاذ بالله بالله رب العالمین۔
ثالثًا:ایك یہودی نے آکر اعتراض کیا اس کے بعد حکم ممانعت ہوا،تو امام الوہابیہ کے نزدیك صحابہ کرام بَلکہ سید انام علیہ الصلٰوۃ و السلام کو سچی توحید اوراس پر استقامت کی تاکید ایك یہودی نے سکھائی ولا حول ولا قوۃ الابالله العلی العظیم۔
رابعًا:قتیلہ رضی الله تعالٰی عنہا کہ حدیث صحیح دیکھو،اس یہودی کی عرض پر بھی فورًا حضور نے ممانعت نہ فرمائی بَلکہ ایك زمانہ کے بعد خیال آیا اوفرمایا:وہ یہودی اعتراض کر گیا ہے اچھا یوں نہ کہا کرو۔تو امام الوہابیہ کے نزدیك الله کے رسول نے آپ تو شرك سے نہ روکا یا شرك کو شرك نہ جانا جب ایك کافر نے بتایا اس پر بھی ایك مدت تك شرك کو روا رکھا پھر ممانعت بھی کی تو یوں نہیں کی شرك کی برائی سے،بَلکہ یوں کہ ایك مخالف اعتراض کرتا ہے لہذا چھوڑدو۔انالله وانا الیہ راجعون۔
خامسًا:ان سب دقتوں کے بعد جو تعلیم فرمائی وہ بھی ہماں آس درکاسہ لائی ارشادہوا کہ یوں کہا کرو ''جو چاہے الله پھر چاہیں محمد'' صلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔تو یہ کام ہوگا،امام الوہابیہ کے لفظ یا دکیجئے:
"یہ خاص الله کی شان ہے اس میں کسی مخلو ق کو دخل نہیں رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا[1]۔"
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع