30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
الحیاء منکن ان انھٰکم عنہا لاتقولوا ماشاء الله وما شاء محمد[1]۔ |
لحاظ روکتاتھا کہ تمہیں اس سے منع کرودوں یوں نہ کہو جو چاہے الله اورجو چاہیں محمد صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ واصحابہ وسلم۔ |
حدیث ۱۷۴:سنن نسائی میں بسند صحیح بطریق مسعرعن معبدبن خالد عن عبدالله بن یسارٍ قتیلہ بنت صیفی جہنیہ رضی الله تعالٰی عنہ سے ہے:
|
ان یہودیا اتی النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فقال انکم تنددون وانکم تشرکون تقولون ماشاء الله وشئت وتقولون والکعبۃ فامرھم النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اذا اراد وان یحلفواان یقولوا ورب الکعبۃ ویقول احد ماشاء الله ثم شئت [2]۔ |
یعنی ایك یہودی نے خدمت اقدس حضورسید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم حاضر ہوکر عرض کی:بیشك تم لوگ الله کا برابروالا ٹھہراتے ہو بیشك تم لوگ شرك کرتے ہو یوں کہتے ہوجو چاہے الله چاہو توم،اورکعبے کی قسم کھاتے ہو۔اس پر سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی الله تعالٰی عنہم کو فرمایا کہ قسم کھانا چاہیں تو یوں کہیں''رب کعبہ کی قسم ''اورکہنے والا یوں کہے ''جو چاہے الله اورپھر جو چاہو تم۔'' |
یہ حدیث سنن بیہقی [3]میں بھی ہے، نیز ابن سعد نے طبقات اور طبرانی معجم کبیر میں میں بطریق مذکور مسعر اور ابن مندہ نے بطریق المسعودی عن معبدن الجدلی عن ابن یسارن الجھنی عن قتیلۃ الجھنیۃ رضی الله تعالٰی عنہا روایت کی اورامام احمد نے مسند میں اس طریق مسعودی سے بسند صحیح یوں روایت فرمائی:حدثنا یحیی بن سعید ثنا یحیی المسعودی ثنی معبد بن خالد عن عبدالله بن یسار
[1] مسند احمد بن حنبل حدیث طفیل بن سخبرۃ المکتب الاسلامی بیروت ۵/۷۲
[2] سنن النسائی کتاب الایمان والنذور الحلف بالکعبۃ نورمحمد کارخانہ کرچی ۲/۱۴۳
[3] السنن الکبرٰی کتاب الجمعۃ باب مایکرہ من الکلام فی الخطبۃ دارصادر بیروت ۳/۲۱۲،الطبقات الکبرٰی لابن سعد تسمیۃ غرائب نساء العرب دارصادر بیروت ۸/۳۰۹،المعجم الکبیر عن قتیلۃ بنت صیفی الجہنیہ حدیث ۵ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۲۵/۱۴و۱۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع