30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نقل کرلیا۔کیا یہ سمجھتا تھا کہ مشکوٰۃ اہل علم کی نظر سے نہاں ہے،نہیں نہیں،خوب جانتاتھا کہ مبتدی طالب علم حدیث میں پہلے اسی کو پڑھتا ہے مگر اسے تو ان بیچارے عوام کو چھَلنا مقصود تھا جنہیں علم کی ہوا نہ لگی سمجھ لیا کہ ان پراندھیری ڈال ہی لوں گا،اہل علم نے اورکون سی مانی ہے کہ اسی پر معترض ہونگے۔
ع اس آنکھ سے ڈریے جو خدا سے نہ ڈرے آنکھ
ثالثًا:امام الوہابیہ کا تو مبلغ علم یہی مشکوٰۃ ہے،ہم اس مطلب کی احادیث اول ذکر کریں پھر بتوفیقہٖ تعالٰی ثابت کردکھائیں کہ یہی حدیثیں اس کے شرك کا کیسا سرتوڑتی ہیں۔اول تو یہی حدیث حذیفہ رضی الله تعالٰی عنہ کی(حدیث ۱۷۱)احمد وابی داؤد نے یوں مختصر ًا اورابن ماجہ نے بسند حسن اس طرح مطولًا روایت کی:
|
حدثنا ھشام بن عمار ثنا سفٰین بن عیینہ عن عبد الملك بن عمیر عن ربعی بن حراش عن حذیفۃ بن الیمان رضی الله تعالٰی عنہما ان رجلًامن المسلمین راٰی فی النوم انہ لقی رجلًا من اھل الکتاب فقال نعم القوم انتم لولا انکم تشرکون تقولون ما شاء الله وشاء محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وذکر ذٰلك للنبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فقال اما والله ان کنت لاعرفھا لکم قولواما شاء الله ثم ماشاء محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم[1]۔ |
یعنی اہل اسلام سے کسی صاحب کو خواب میں ایك کتابی ملا وہ بولا:تم بہت خوب لوگ ہو اگر شرك نہ کرتے تم کہتے ہوجو چاہے الله اورچاہیں محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔ان مسلم نے یہ خواب حضور سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی،فرمایا:سنتے ہو خدا کی قسم تمہاری اس بات پر مجھے بھی خیال گزرتا تھا یوں کہا کرو جو چاہے الله پھر جو چاہیں محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔ |
[1] مسند احمد بن حنبل حدیث حذیفۃ بن الیمان المکتب الاسلامی بیروت ۵/۳۹۳،سنن ابی داود،کتاب الادب باب منہ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۳۲۴،سنن ابن ماجۃ ابواب الکفارات باب النہی ان یقال ماشاء الله الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۵۴
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع