30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جائیں ورنہ مجبور پڑے رہیں یہ کس ناکس اپنے اس خیال پر دلیل لایا کہ:''چنانچہ پیغمبر کو بارہا ایسا اتفاق ہوا کہ بعض بات دریافت کرنے کی خواہش ہوئی اور وہ بات نہ معلوم ہوئی پھر جب الله صاحب کا ارادہ ہوا تو ایك آن میں بتا دی چنانچہ منافقوں نے حضرت عائشہ پرتہمت کی اورحضرت کو بڑا رنج ہوا اورکئی دن تك بہت تحقیق کیا کچھ حقیقت معلوم نہ ہوئی،جب الله صاحب کا ارادہ ہوا تو بتادیا کہ منافق جھوٹے ہیں اورعائشہ پاك [1]۔''
اقول:اگراختیار ذاتی وعطائی میں فرق کی تمیز ہوتی تو جان لیتا کہ ایسے اتفاقات اختیار عطائی کے اصلًا منافی نہیں،مراد کا اکتیار سے متخلف نہ ہوسکتان قدرت ذاتیہ الہیہ کا خاصہ ہے،قدرت عطائیہ انسانیہ میں لاکھ بار ایسا ہوتاہے کہ آدمی ایك کام کیا چاہتاہے اورالله نہیں چاہتانہیں بن پڑتا،اس سے نہ انسان پتھر ہوگیا نہ اس کا اختیار عطائی مسلوب،عطائی کی شان ہی یہ ہے کہ جب تك ارادہ ذاتیہ حقیقیہ الہیہ مساعدت نہ فرمائے کام نہیں دیتا۔طرفہ قہر بر قہریہ ہے کہ ادھر تو تُو نے انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کو عیاذًا بالله پتھر بنایا تھا ادھر اپنے معبود کو ایك آدمی کے برابر کر چھوڑا کہ:''غیب کی بات دریافت کرنا اپنے اختیار میں ہوکہ جب چاہے کرلیجئے یہ الله صاحب کی شان ہے [2]۔''
او الله عزوجل کو سخت عیب لاگانے والے بے ادب گستاخ!یہ ہرگز ہرگز الله تعالٰی کی شان نہیں،وہ اس بیہودہ مہمل شان سے پاك ومنزہ ہے اس کا علم اس کی صفت ذاتیہ ہے اس کے اختیار سے نہیں اس کا علم مخلوق نہیں ازلی ابدی ہے حادث نہیں۔اوبد عقل بدزبان!غیب کا دریافت کرنا اختیار میں ہونے کے یہی معنٰی یا کچھ اورکہ بافعل تو معلوم نہیں مگر چاہے تو معلوم کرسکتا ہے،تُف بررُوئے بے دینی،یہ تیرا موہوم خدا جاہل بالفعل محل حوادث ہوگا سچا خدا تیری یہ صریح گالی ہے بے نہایت متعالٰی ہے تعالٰی الله عما یقول الظٰلمون علوّاکبیرا(الله تعالٰی بہت بُلند وبرتر ہے۔ان باتوں سے جو ظالم کہتے ہیں۔ت)
مسلمانو!دیکھاتم نے،یہ ایمان ہے اس گمراہ کا انبیاء اورخود حضرت عزت کی جناب میں،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع