30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ماان رایت ولا سمعت بواحدٍ فی الناس کلھم کمثل محمد
اوفٰی واعطٰی للجزیل لمجتدٍ ومتٰی تشاء یخبرك عما فی غدٖ
میں نے تمام جہان کے لوگوں میں محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے مثل نہ کوئی دیکھا نہ سنا،سب سے زیادہ وفا فرمانے والے اورسب سے فزوں تر سائل نفع کو کثیر عطابخشنے والے اورجب تو چاہے تجھے کل کی خبر بتادیں۔صلی الله تعالٰی علیہ وسلم۔
سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں ان کی قوم ہوا زن اورقبائل ثمالہ وسلمہ وفہم پر سردارفرمایا[1]۔
حدیث ۱۷۰:معافی نے کتاب الجلیس والانیس میں بطریق حرمازی ابوعبیدہ رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت کی،مالك بن عوف رضی الله تعالٰی عنہ رئیس ہواز اسلام لاکر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اورحضور پرنور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو اپنا وہ قصیدہ نعتیہ سنایا(جس میں اسی مضمون کے شعر ذکر کئے)فقال لہ خیرًا وکساہ حلّۃ حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے ان کے حق میں کلمہ خیر فرمایا اور انہیں خلعت پہنایا۔ذکرھما الحافظ فی الاصابۃ[2] (ان دونوں روایتوں کو حافظ نے اصابہ میں بیان کیا۔ت)
اقول:رضوان الٰہی کے بے شمار اباران یاران مصطفی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم پر برسیں یوں نہ کہا کہ متی یشاء جب وہ چاہیں تجھے غیب کی خبر دے دیں۔اس میں اس صورت پر بھی صادق آسکنے کا احتمال رہتا،جب بتانے والے کو کوئی اختیار نہ دیا جائے بَلکہ سال دو سال میں ایك آدھ بات پر اطلاع عطا ہوا یسا جاننے والا بھی تو ریہ وایہام کے طور پر کہہ سکتاہے کہ جب چاہوں گا تمہین غیب کی خبر دے دوں کہ وہ اس وقت چاہے گا جب اسے اتفاق سے کوئی خبر ملے گی تو شرطیہ سچا ہے بَلکہ یوں فرمایا کہ جب تُو چاہے وہ تجھے غیب کی کبر دے دیں گے،یہاں سائل مطلق مخاطب ہے کسے باشد نہ وہ معین نہ ا سکے پوچھنے کا وقت محدود نہ غدٍ معرفہ بَلکہ نکرہ غیر مخصوص،تو حاصل یہ ٹھہرے گا کہ جو شخص چاہے جس وقت چاہے جس آئندہ بات کو چاہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع