30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تعالٰی بتقدیمہ اسمہ[1]۔ |
کہ جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی کو پسند نہ فرمایا اس میں برابری کا دہم نہ ہوجائے اورحکم دیا کہ یوں کہے کہ جس نے الله ورسول کی نافرمانی کی جس میں الله عزوجل کا نام اقدس نام پاك رسول سے تعظیمًا مقدم رہے۔ |
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)
|
تعالٰی علی ھذا التکلف السعید ما رأی من التنافی بین نھیہ الخطیب وثبوتہ عن نفسہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وقد علمت ان لاتنا فی ولیس من واجبات الخطبۃ ترك الاضمار لامن شریطۃ الا یضاح وضع المظھر موضع المضمر وانما کان الاضمار یخل بالاظھار حیث یخشی الا لتباس وھٰھنا لا لیس فکیف یکون ھٰذا مقتضیا لان یواجھہ النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بالذم ویقول لہ اذھب اوقم وقد کان صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یحب الایجاز فی الکلام بحیث لایخل بالافھام وکان یقول صلی الله تعالٰی علیہ وسلم:ان طول |
اس تکلف سعید پر اس بات نے برانگیختہ کیا ہے کہ آپ نے رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے خطیب کو ضمیر تثنیہ کے استعمال سے منع کرنے اور خود اس کو استعمال فرمانے میں منافات سمجھی، حالانکہ تُوجان چکا ہے کہ کوئی منافات نہیں۔اورضمائر کو ترك کرنا خطبہ کے واجبات میں سے نہیں اور نہ ہی ضمیر کی جگہ اسم ظاہر کو رکھنا شرط توضیح ہے۔ضمیر کو استعمال کرنا وہاں مخلِّ اظہار ہوتا ہے جہاں التباس کا ڈر ہوجبکہ یہاں ایسا نہیں ہے۔پھر یہ بات اس امر کی مقتضی یسے ہوئی کہ نبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اس خطیب کو مذمت فرمائیں اورحکم دیں کہ یہاں سے چلا جایا اٹھ جا، حالانکہ آپ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کلام میں ایسے اختصار کو پسند فرماتے تھے جو مخلِّ فہم نہ ہو۔اورآپ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے تھے کہ مرد کا نماز کو لمبا کرنا(باقی برصفحہ آئندہ) |
[1] شرح صحیح مسلم للقاضی عیاض کتاب الجمعۃ حدیث ۸۷۰دارالوفاء ۳/۲۷۵،شرح صحیح مسلم مع صحیح مسلم للنووی کتاب الجمعۃ فصل فی ایجاز الخطبۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۲۸۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع