30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
انما انکر علیہ تشریکہ فی الضمیر المقتضی للتسویۃ وامرہ بالعطف تعظیمالله |
یعنی سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے اس خطیب کا الله و رسول کو ایك ضمیر تثنیہ عــــــہ میں جمع کرنا |
|
عــــــہ:اقول: ھذا ھو الصحیح علۃ ومنافاتہ حدیث ابی داؤد الاتی مند فعۃ بما ذکر العبد الضعیف غفر الله تعالٰی لہ اما ما استصوب الامام الاجل النووی رحمہ الله تعالٰی فی المنھاج ان سبب النھی ان الخطب شانھا البسط والایضاح واجتناب الاشار ات والرموز ومثل ھذا الضمیر قد تکر رفی الاحادیث الصحیحۃ من کام رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کقولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ان یکون الله ورسولہ احب الیہ مما سواھما وانام ثنی الضمیر ھٰھنا الانہ لیس خطبۃ وعظ وانما ھو تعلیم حکم فکلما قل لفظ کان اقرب الٰی حفظہ بخلاف خطبۃ الوعظ فانہ لیس المراد حفظھما وانما یراد الا تعاظ بھا [1]اھ
فاقول:انما حداہ رحمہ الله |
اقول:(میں کہتاہوں)یہی علت درست ہے،اورا سکی منافات حدیث ابو داؤد کے ساتھ جو کہ عنقریب آرہی ہے،عبد ضعیف (الله تعالٰی اس کی مغفرت فرمائے)کے بیان مذکور کے ساتھ مندفع ہے۔امام اجل نوری علیہ الرحمہ نے منہاج میں جو خیال ظاہر فرمایا ہے کہ انہی کا سبب یہ ہے کہ خطبات کی شان یہ ہے کہ ان میں تفصیل وتوضیح سے کام لیاجائے اورارشادات ورموز سے اجتناب کیا جائے حالانکہ اس قسم کی ضمیر کا استعمال کلام رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم میں متعدد احادیث صحیحہ میں وارد ہے۔ جیسے رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہے:''الله ورسول کی محبت اس کے دل میں ان دونوں کے ماسوا سے زیادہ ہو۔ ''یہاں ضمیر تثنیہ اس لئے آپ نے استعمال فرمائی کہ یہ خطبہ و وعظ نہیں بَلکہ حکم شرعی کیت علیم ہے،چنانچہ لفظوں کی قلت انہیں حفظ کرنے کے زیادہ قریب ہے بخلاف خطبہ کے کہ اس میں حفظ الفاظ مقصد نہیں ہوتا بَلکہ ان سے نصیحت حاصل کرنا مقصود ہوتاہے۔اھ فاقول:(تو میں کہتاہوں)امام نووی علیہ الرحمہ کو (باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع