30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی نشان نہیں اورالله عزوجل کی عظمت اس کی صفت پاك اس کی ذات اقدس سے قائم ہے مکان ومحل سے منزہ ہے،کیا جانئے تو کس چیز کو خدا سمجھاہے جس کی عظمت مکانوں میں بھری ہوئی ہے،خیر یہ تو تیرے بائیں ہاتھ کے کھیل ہیں ؎
تیر برجاہ انبیاء اندازہ طعن درحضرت الٰہی کن
بے ادب با ش وانچہ دانی گو بیحیا باش وہرچہ خواہی کن [1]
(انبیاء کرما علیہم الصلٰوۃ والسلام کے مقام ومرتبہ پر تیر اندازی کراوربارگاہ الٰہی میں طعن کر،بے ادب بن جا اورجو کچھ چاہتاہے کتہا جا،بے حیان بن جا اور جو چاہتاہے کرتا جا۔ت)
مگرآنکھوں کی پٹی اترواکر ذرا یہ سوچ کہ جو بات عظمت شان الٰہی کے خلاف ہو اسے سن کر رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا یہ برتاؤ ہوتاہے حالانکہ سفارشی ٹھہرانے کو یہ بات کہ اس کا مرتبہ اس سے کم ہے جس کے پاس اس کی سفارش لائی گئی ایسی سریح لازم نہیں جسے عام لوگ سمجھ لیں ولہذا وہ صحابی اعرابی رضی الله تعالٰی عنہ بآنکہ اہل زبان تھے اس نکتے سے غافل رہے تو کیا ممکن ہے کہ صریح شرك وکفر کےکلمے حضو رسنیں اور اصلًاکوئی اثر غضب وجلا ل چہرہ اقدس پر نمایاں نہ ہو،ہ حضور دیر تك سبحان الله سبحان الله کہیں،نہ اہل مجلس کی حالت بدلے،نہ ان کے کہنے والیوں پر کوئی مواخذہ ہو،ایك آسان سی بات پرقناعت فرمائیں کہ اسے رہنے دو،کویں نہیں فرماتے کہ اری!تم کفر بك رہی ہو،اری!تقویۃ الایمان کے حکم سے تم مشرکہ ہوگئیں تمہارا دین جاتا رہا تم مرتد ہوئیں از سرانو ایمان لاؤ کلمہ پڑھو نکاح ہوگیا ہے تو تجدید نکاح کرو۔گرض ایك حرف بھی ایسا نہ فرمایا جس سے شرك ہونا ثابت ہو،کہنے والیوں کو اپنا حال اوراہل مجلس کو اس لفظ کا حکم معلوم ہوحالانکہ وقت حاجت بیان حکم فرض ہے اورتاخیر اصلًا روا نہیں،تو خود اس حدیث سے صاف ظاہر ہوا کہ نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی طرف اطلاع علی الغیب کی نسبت ہرگز شرك نہیں۔رہا ممانعت فرمانا،وہ بھی یہ بتائےکہ انبیائے کرام وخود سید الانام علیہ وعلیہم افضل الصلٰوۃ والسلام کی جانب میں اس کا اعتقاد فی نفسہٖ باطل ہے،یہ منہ دھو رکھئے منع لفظ بطلان معنٰی ہی میں منحصر نہیں بَلکہ اس کے لیے وجوہ ہیں اورعقل ونقل کا قاعدہ مسلمہ ہے کہ اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال(جب احتمال آجائے تو استدلال باطل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع