30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کتاب کی وضع ہے کہاں سے نکلا کیا اسی کو اتمام تقریب کہتے ہیں اوریہ اس کا قدیم داب ہے کہ دعوٰی کرتے وقت آسمان سے بھی اونچا اڑے گا اوردلیل لاتے وقت تحت الثّرٰی میں جاچھپے گا اورپیچھا کیجئے تو وہاں سے بھی بھاگ جائے گا،ایسے ہی ناتمام اٹکل بازیوں سے عوام کو چھلا اور کاغذ کا چہر ہ اپنے دل کی طرح سیاہ کیا۔
ثم اقول:اورانصاف کی نگاہ سے دیکھئے تو بحمدلله تعالٰی حدیث نے شرك کا تسمہ بھی لگا نہ رکھا،اورشرك پسند،اوشرك کی حقیقت و شناخت سے غافل!کیا شرك کوئی ایسی ہلکی چیز ہے کہ الله کا رسول اوررسولوں کا سردار صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اپنی مجلس میں اپنےحضور اپنی امت کو شرك بکتے کفر بولتے سنے اوریونہی سہل دوحرفوں میں گزاردے کہ اسے رہنے دو وہی پہلی بات کہے جاؤ۔اب یاد کر وحدیث ابی داؤد ویحك انہ لایستشفع بالله علی احدٍ[1]۔(تجھ پر افسوس ہے مخلوق میں سے کسی کے پاس الله تعالٰی سے سفارش نہیں کرائی جاتی)کے متعلق اپنی بدلگامی کی۔
تقریر کہ:''عرب میں قحط پڑا تھا ایك گنوارنے آکر پیغمبر کے روبرو اس کی سخت بیان کی اوردعا طلب کی اورکہا تمہاری سفارش ہم الله کے پاس چاہتے ہیں اورالله کی تمہارے پاس،یہ بات سن کر پیغمبر خدا بہت خوف اور دہشت میں آگئے اورالله کی بڑائی ان کے منہ سے نکلنے لگی اوساری مجلس کے چہرے الله کی عظمت سے متغیر ہوگئے پھراس کو سمجھایا کہ الله کی شان بہت بڑی ہے سب انبیاء واولیاء اس کے روبروذرہ ناچیز سے کمتر ہیں وہ کس کے رو برو سفارش کرے[2]۔"
سبحان الله!اشرف المخلوقات محمدرسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی اس کے دربار میں یہ حالت ہے کہ ایك گنوار کے منہ سے اتنی بات سنتے ہی مارے دہشت کے بے حواس ہوگئے اورعرش سے فرش تك جو الله کی عظمت بھری ہوی ہے بیان کرنے لگے۔
اقول:انبیاء واولیاء کو ذرہ ناچیز سے کمتر کہنے کی نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی طرف نسبت کرنا کہ حضور نے اسے یوں سمجھایا یا تیرا افتراہے حدیث میں اس کا وجود نہیں،اورمحمد رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو بے حواس کہنا یہ تیری بے دینی کا ادنی کرشمہ اور افترا پر افترا ہے حدیث میں اس کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع