30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دھرم میں اس کا معبود خود ہی کسی کو آئندہ باتیں جاننے کا مرتبہ دینے پر قادر نہیں کیا اپنا شریك کسی کو بناسکے گا،یونہی یہ امر بھی اسے مضر نہیں کہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ والتسلیم کو بعطائے الٰہی بھی اطلاع علی الغیب کا مرتبہ ملتا صریح مخالف قرآن ہے۔قال الله تعالٰی:
|
" وَمَا کَانَ اللہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیۡبِ وَلٰکِنَّ اللہَ یَجْتَبِیۡ مِنۡ رُّسُلِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ۪"[1]۔ |
الله اس لئے نہیں کہ تمہیں غیب پر اطلاع کا منصب دے ہاں اپنے رسولوں سے چن لیتاہے جسے چاہے۔ |
وقال تعالٰی:
|
" عٰلِمُ الْغَیۡبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیۡبِہٖۤ اَحَدًا ﴿ۙ۲۶﴾ اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنۡ رَّسُوۡلٍ"[2]۔ |
غیب کا جاننے والا تو کسی کو اپنے غیب پر غالب ومسلط نہیں کرتا مگر اپنے پسندیدہ رسولوں کو۔ |
یہاں لایظھر غیبہ علی احدٍ نہ فرمایا کہ الله تعالٰی اپنا غیب کسی پر ظاہر نہیں فرماتا کہ اظہار غیب تو اولیائے کرام قدست اسرارھم پر بھی ہوتاہے اوربذریعہ انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام ہم پر بھی،بَلکہ فرمایا:لایظھر علی غیبہٖ احدًا اپنے غیب خاص پر کسی کو ظاہر وغالب ومسلط نہیں فرمایا مگر رسولوں کو۔ان دونوں مرتبوں میں کیسا فرق عظیم ہے اوریہ اعلٰی مرتبہ انبیاء علیہم الصلٰوۃ والثناء کو عطاہونا قرآن عظیم سے کیسا ظاہرہے مگر اسے کیا مضر کہ جب اس کے نزدیك الله عزوجل کا کذب ممکن جیسا کہ اس کے رسالہ "یکروزی"سے ظاہر،اور فقیر کے رسالہ "سبحان السبوع عن عیب کذب مقبوح" فـــــــ میں اس کا رد ظاہر وباہر،تو قرآن کی مخالفت اس پر کیا موثر،والله المستعان علی کل غویٍ فاجرٍ(ہرگمراہ فاجر کے خلاف الله تعالٰی ہی سے مدد مانگی جاتی ہے)اس سب سے گزر کر ہوشیار عیّار سے اتنا پوچھئے کہ بالفرض اگر حدیث سے ثابت ہے بھی تو صرف ممانعت کہ انبیاء کی جناب میں ایسا عقیدہ نہ رکھے وہ شرك کاجبروتی حکم جس کے لیے اس فصل اورساری
ف:رسالہ "سبحان السبوع عن عیب کذب مفتوح"فتاوٰ ی رضویہ جلد ۱۵مطبوعہ رضا فاؤنڈیش جامعہ نظامیہ رضویہ اندرون لوہاری دروازہ لاہور کے صفحہ ۳۱۱پر مرقوم ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع