30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اقول:مراد والله اعلم نفس رحمت میں برابری ہے تو اس ارشاد کے منافی نہیں کہ خدا کا فرض رسول کے فرض سے اشد واقوٰی ہے۔
حدیث ۱۶۷:جہیش بن اویس نخعی رضی الله تعالٰی عنہ مع اپنے چند اہل قبیلہ کے باریاب خدمت اقدس حضورسیدعالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ہوئے قصیدہ عرض کیا ازاں جمہ یہ اشعار ہیں ؎
الا یارسول الله انت مصدق فبورکت مھدیا وبورکت ھادیًا
شرعت لنا دین الحنیفۃ بعد ما عبدنا کامثال الحمیر طواغیًا
یارسول اللہ!حضور تصدیق لئے گئے ہیں حضور الله عزوجل سے ہدایت پانے میں بھی مبارك اورخلق کو ہدایت عطافرمانے میں بھی مبارك حضور ہمارے لئے دین اسلام کے شارع ہوئے بعد اس کے کہ ہم گدھوں کی طرح بتوں کو پوج رہے تھے۔
|
مندۃ [1] من طریق عما ربن عبدالجبار عن عبدالله بن المبارك عن الازواعی عن یحیی بن ابی سلمۃ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ حدیث طویل۔ |
مندہ نے عماربن عبدالجبار کے طریقے سے عبدالله بن مبارك سے انہوں نے اوزاعی سے انہوں نے یحیی بن ابی سلمہ سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ سے روایت کیا،حدیث لمبی ہے۔(ت) |
یہاں صراحۃً تشریع کی نسبت حضور سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی طرف ہے کہ شریعت اسلامی حضور کی مقرر کی ہوئی ہے ولہذا قدیم سے عرف علمائے کرام میں حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو شارع کہتے ہیں۔علامہ زرقانی شرح مواہب میں فرماتے ہیں:
|
قداشتھر اطلاقہ علیہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لانہ شرع الدین والاحکام[2]۔ |
سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو شارع کہنا مشہور ومعروف ہے اس لئے کہ حضور نے دین متین واحکام دین کی شریعت نکالی۔ |
اسی قدر پربس کیجئے کہ اس میں سب کچھ آگیا ایك لفظ شارع تمام احکام تشریعیہ کو جامع ہوا،میں نے یہاں وہ احادیث نقل نہ کیں جن میں حضور کی طرف امر ونہی وقضا و
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع