30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لامرتھم ان یؤخروا عــــــہ العشاء الی |
فرض کردوں کہ عشاء میں تہائی |
|
عــــــہ:سبب ھٰذا انہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اخرذات لیلۃ صلٰوۃ العشاء حتی ابھا راللیل او ذھب عامۃ اللیل ونام النساء والصبیان فجاء فصلی وذکرہ کما ورد مبینا فی احادیث ابن عباس وابی سعید وابن عمرو انس وغیرھمٍ رضی الله تعالٰی عنہم،وسبب حدیث السواك ایتان ناس عندہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم قلحا فقال استاکوا استاکوا لاتاتونی قلحا لولا ان اشق علی امتی لفرضت علیھم السواك عند کل صلٰوۃ کما بینہ الدارقطنی [1]من حدیث العباس رضی الله تعالٰی عنہ فھما حدیثان ربما افرزھما ابو ھریرۃ وربما جمع وکذٰلك غیرہ رضی الله تعالٰی عنہم وان اتفق ان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ھو الذی قال مرۃ ھٰکذا اواخرٰی ھٰکذا و |
اس کا سبب یہ ہے کہ ایك رات نبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے عشاء کی نماز مؤخر فرمادی یہاں تك کہ آدھی رات یا زیدہ گزر گئی۔عورتیں اوربچے سوگئے تو آپ تشریف لائے اورنماز پڑھائی، جیسا کہ ابن عباس،ابو سعید،ابن عمر اورانس وغیرہ کی احادیث میں واضح طور پر وارد ہوا ہے رضی الله تعالٰی عنہم۔حدیث سواك کا سبب یہ ہے کہ لوگ میلے کچیلے دانتوں کے ساتھ رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے پاس آئے توآپ نے فرمایا مسواك کیا کرو اورمیرے پاس میلے کچیلے دانتوں کے ساتھ مت آیاکرو،اگر مجھے امت کی مشقت کا لحاظ نہ ہوتا تو میں ان پر ہر ناز کے وقت فرض کردیتا۔جیساکہ اس کو دارقطنی نے بحوالہ حدیث ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہ بیان کیا ہے۔ان دونوں حدیثوں کو حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ نے کبھی الگ الگ بیان فرمایا ہے اورکبھی دونوں کوجمع کیا ہے،یونہی ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ کے غیر نے کیا ہے، اگرچہ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے کبھی اس طرح بیان فرمایا ہے اورکبھی اس طرح اور کبھی (باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع