30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فراجعہ ان شئت۔ |
ان کی پیروی کی ہے۔(ت) |
اقول:یہ حدیث صحیح حضور سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی تفویض واختیار میں نص صریح ہے ورنہ یہ کہنا اورکہنا بھی کیسا مؤکد بقسم کہ والله سائل مانگے جاتاتو حضور پانچ دن کردیتے اصلًا گنجائش نہ رکھتا تھا کما لایخفٰی(جیسا کہ پوشید ہ نہیں۔ت) اوریہاں جزم خصوص بے جزم عموم نہ ہوگا کہ اس خاص کی نسبت کوئی خبر خاص تخییر ارشاد نہ ہوئی تھی تو جزم کا منشاء وہی کہ حضرت خزیمہ رضی الله تعالٰی عنہ کو معلوم تھا کہ احکام سپرد اختیار حضورسید الانام ہیں علیہ وعلٰی آلہٖ افضل الصلٰوۃ والسلام۔
حدیث ۱۴۷:مالك واحمد وبخاری ومسلم ونسائی وابن ماجہ حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ سے راوی،رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لولا ان اشق علی امتی لامر تھم بالسواك عند کل |
اگرمشقت امت کا خیال نہ ہوتا تو میں ان پر فرض فرمادیتاکہ ہرنماز کے وقت |
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) حنبل وابن معین فما ھو ابن حزم وائش ابن ھزم بعد ھٰذین وھو متفردفیہ لم یسبقہ احد بھٰذا القول الا تری ان البخاری انما اعلہ اذا علله بانہ لم یعرف سماع الجدلی لابانھا روایہ الجدلی وقدصحح لہ الترمذی وقال فی التقریب [1] ثقہ۔والله تعالٰی اعلم ۱۲منہ۔ |
جن کی طرف رجوع کیا جاتاہے،اوروہ امام احمد بن حنبل اوریحیی بن معین ہیں۔ان دو اماموں کے مقابَلہ میں ابن حزن وابن ھزم کیا شے ہے درانحالیکہ وہ اس میں تنہا ہے۔اس سے پہلے کسی نے یہ قول نہیں کیا۔کیا تو دیکھتا نہیں کہ امام بخاری نے اس کو اس وجہ سے معلل قرار دیا کہ جدلی کا سماع معروف نہیں،نہ اس وجہ سے کہ یہ جدلی کی روایت ہے۔امام ترمذی نے اس کو صحیح قراردیا اور تقریب میں کہا کہ وہ ثقہ ہے۔اورالله تعالٰی خوب جانتاہے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع