30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
واثرہ الامام الزیلعی فی نصب الرایۃ [1]۔ |
لمبی گفتگو فرمائی ہے،اورامام زیلعی نے نصب الرایہ میں |
|
(بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ) السماع ولو مرۃ للاتصال والصحیح الاجتزاء بالمعاصرۃ ھو المنصور علیہ الجمہور کما افادہ المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر وقد اطال مسلم فی مقدمۃ صحیحہ فی الرد علی ھذا المذھب لاجرم ان لم یکثر بہ تلمیذہ الترمذی وحکم بانہ حسن صحیح وکذا حکم بصحتہ شیخ البخاری بامام الناقدین یحیی بن معین۔
اقول:علاانہ لو سلم فقصواہ الا نقطاع ولیس بقادح عندنا وعند سائر قابلی المراسیل وھم الجہور ثم علك من دندنۃ ابن حزم ان الجدلی لایعتمد علی روایتہ فان الرجل فی الجرح والوقعیۃ کالا عمیین السیل الھوجم و البیعر الصؤل حتی عند الترمذی من المجاھیل والجد لی فقد وثقہ الا مامان المرجوع الھما احمد بن |
راوی کا مروی عنہ سے سماع شرط ہے اگرچہ ایك مرتبہ وہا تصال کے لیے۔صحیح یہ ہے کہ معاصرت ہی کافی ہے۔جمہور کا موقف یہی ہے جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اس کا افادہ فرمایا ہے۔ امام مسلم نے صحیح مسلم کے مقدمہ میں اس مذہب کے رد پر طویل بحث کی ہے۔امام بخاری کے شاگرد امام ترمذی نے بھی امام بخاری کی تائید نہیں کی اوراس حدیث کے صحیح ہونے کا حکم لگایا ہے۔یونہی امام بخاری کے استاذامام الناقدین یحیی بن معین نے اس کی صحت کا حکم لگایا ہے۔ میں کہتاہوں اگرامام بخاری کی بات تسلیم بھی کرلی جائے تو اس سے زیادہ سے زیادہ انقطاع لازم آتاہے اوروہ ہمارے نزدیك اور مساسیل کو قبول کرنیوالے دیگر حضرات جو کہ جمہور ہیں کے نزدیك قادح نہیں ہے پھر تم پر ابن حزم کی گنگناہٹ کا سننالازم ہے کہ جدلی کی روایت پر اعتماد نہیں کیا جاتا،کیونکہ آدمی جرح و تصادم میں دو اندھوں کی مثل ہوتاہے یعنی بڑھتا ہوا سیلا ب اور حملہ کرنیوالا مست اونٹ۔یہاں تك کہ ترمذی کے ہاں مجاہیل میں سے ہے،اورجدلی کی توثیق ان دو۲ اماموں نے کی ہے (باقی برصفحہ آئندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع