30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ھذاحدیث حسن صحیح[1]۔یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
نیز امام الشان یحیی بن معین سے نقل کیاکہ حدیث صحیح ہے۔
|
وھو ان لم یذکر الزیادۃ فانما المخرج المخرج و الطریق الطریق حیث قال حدثنا قتیبۃ نابوعوانۃ عن سعید بن مسروق عن ابراھیم التیمی عن عمرو بن میمون عن ابی عبدالله الجدلی عن خزیمۃ بن ثابت رضی الله تعالٰی عنہ عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم[2]۔وقد اطال الامام ابن دقیق العید الکالم فی تقویۃ ھذا الحدیث والذات عــــــہ عنہ فی کتابہ الامام |
امام ترمذی نے اگرچہ زیادت کو ذکر نہیں کیا مگر مخرج بھی وہی ہے اورطریق بھی وہی ہے،اس لئے کہ فرمایا ہمیں حدیث بیان کی قتیبہ نے انہوں نے ہمیں حدیث بیان کی ابو عوانہ سے انہوں نے سعید بن مسروق سے انہوں نے ابراہیم تیمی سے انہوں نے عمرو بن میمون سے انہوں نے ابو عبدالله جدلی سے انہوں نے خزیمہ بن ثابت انصاری رضی الله تعالٰی عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے۔ امام ابن دقیق العید نے اس حدیث کی تقویت میں اپنی کتاب الامام میں خوب |
|
عــــــہ:اعظم ما یرتاب بہ فیہ روایۃ البیھقی عن الترمذی عن البخاری لایصح عندی لانہ لایعرف لابی عبد الله الجدلی سماع من خزیمۃ[3] ع وتلك شکاۃ ظاھرعنك عارھا فان مبناہ علی ماذھب الیہ ھو رحمۃ الله من اشتراط ثبوت |
اس میں سب سے بڑا شبہ اس رواتی سے کیا جاتاہے جو بیہقی نے امام ترمذی سے اورانہوں نے امام بخاری سے کی ہے کہ میرے نزدیك یہ حدیث نہیں کیونکر ابوعبدالله جدلی کا خزیمہ سے سماع ثابت نہیں۔یہ وہ شکوٰی ہے جس کا عارتجھ سے دور ہے،کیونکہ امام بخاری علیہ الرحمہ کے مؤقف کے مطابق اس بات پر ہے کہ (باقی برصفحہ آیندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع