30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اخبارہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بانہ سواری کسرٰی فانما تحقیقا بلبسہ وانما حرام اللبس ومن شرط الحرمۃ اللبث فالو اضح ماجنحت الیہ من ان ھذا ترخیص وتخصیص من النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لسراقۃ ولم یکن فی الحدیث مایدل علی التملیك ففعل امیر المومنین ما ارشد الیہ الحدیث ثم ردھما مردّھما۔ |
تعالٰی علیہ وسلم کا اس بات کی خبر دینا ہے کہ سراقہ کسرٰی کے کنگن پہنے گا۔چنانچہ اس کا تحقق تو ان کے کنگن پہننے سے ہوگیا، اوربے شك حرام پہننا ہے اورحرمت کی شرط لبث ہے۔پس واضح ہے کہ یہ سراقہ کے لئے نبی کریم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی طرف رخصت وتخصیص ہے۔اورحدیث میں تملیك پر دلالت نہیں چنانچہ امیرالمومنین نے وہ کام کای جس کی طرف حدیث نے راہنمائی فرمائی،پھر ان کنگنوں کو ان کی جگہ کی طرف لوٹا دیا۔(ت) |
حدیث ۳۲:طبقات ابن سعد میں منذر ثوری سے ہے امیر المومنین علی وحضرت طلحہ رضی الله تعالٰی عنہما میں کچھ گفتگو ہوئی طلحہ رضی الله تعالٰی عنہ نے کہا آپ نے(اپنے بیٹے محمد بن حنفیہ ابوالقاسم)کا نام بھی نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا نام پر رکھا اور کنیت عــــــہ بھی حضور کی،حالانکہ سید عالم صلی الله
عــــــہ:شیخ محقق اشعۃ للمعات میں فرماتے ہیں:
|
علماء رادریں مسئلہ اقوال ست وقول صواب ازیں مقالات آنست کہ تسمیہ بنام شریف وے صلی الله تعالٰی علیہ وسلم جائز بَلکہ مستحب ست وتکنی بکنیت وے اگرچہ بعد از زمان قوی تروسخت تربود و ہمچنیں جمع کردن میان نام وکنیت آنحضرت صلی الله تعالٰی علیہ و سلم ممنوع بطریق اولٰی وآنکہ علی مرتضٰی کردمخصوص بودبوے رضی الله تعالٰی عنہ وغیر او را جائز نبود [1]اھ لکن فی |
اس مسئلہ میں علماء کے مختلف اقوال ہیں،درست قول اس سلسلہ میں یہ ہے کہ آپ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے نام پر نام رکھنا جائز بَلکہ مستحب ہے۔اورآپ کی کنیت کے ساتھ کنیت رکھنا اگرچہ آپ کے وصال کے بعد ہوسخت منع ہے اوراسی طرح آپ کے نام اور کنیت کو جمع کرنا بطریق اولٰی ممنوع ہے۔اوروہ جو حضرت علی مرتضی رضی الله تعالٰی عنہ نے کیا ہے وہ انکی خصوصیت ہے،انکے غیر کو ایسا کرنا جائز نہیں اھ۔ (باقی برصفحہ آیندہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع