30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے پہن لے جو کچھ الله ورسول نے پہنایا،جل جلالہ،و صلی الله تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم۔
حدیث ۳۱:دلائل النبوۃ بیہقی میں بطریق الحسن مروی،سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے سراقہ بن مالك رضی الله تعالٰی عنہ سے فرمایا:
|
کیف بك اذا لبست سواری کسرٰی۔ |
وہ وقت تیرا کیسا وقت ہوگا جب تجھے کسرٰی بادشاہ ایران کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ |
جب ایران زمانہ امیر المومنین فاروق اعظم رضی الله تعالٰی عنہ میں فتح ہوا اورکسرٰی کے کنگن،کمربند،تاج خدمت وفاروقی میں حاضر کئے گئے امیر المومنین نے انہیں پہنائے اوراپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا:
|
الله اکبر الحمدلله الذی سلبھما کسرٰی بن ھرمز و البسھما سراقۃ الاعرابی[1]۔ قال العلامۃ الزرقانی لیس فی ھذا استعمال الذھب و ھو حرام لانہ،انما فعلہ تحقیقا لمعجزۃ الرسول صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من غیر ان یقرھما فانہ روٰی انہ امرہ فنزعھما وجعلھما فی الغنیمۃ ومثل ھذا لایعد استعمالًا [2]۔ اقول:رحمك الله من فاضل کبیر الشان انما المعجزۃ |
الله بہت بڑا ہے سب خوبیاں الله کو جس نے یہ کنگن کسرٰی بن ہرمز سے چھینے اورسراقہ دہقانی کو پہنائے۔ علامہ زرقانی نے فرمایا اس سے سونے کو استعمال کرنا لازم نہیں آیا حالانکہ وہ حرام ہے،کیونکہ امیر المومنین کا یہ فعل رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے معجزہ کی تحقیق کے لئے تھا،اس فعل کو برقرار نہیں رکھا۔مروی ہے کہ آپ نے سراقہ کو حکم دیا انہوں نے وہ کنگن اتار دیئے اور آپ نے انہیں مال غنیمت میں شامل فرمادیا اوراس کو استعمال شمار نہیں کیا جاتا۔ میں کہتاہوں اے فاضل کبیر الشان،الله تعالٰی آپ پر رحم فرمائے،معجزہ تورسول الله صلی الله |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع