30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام جلال الدین سیوطی وغیرہ علماء نے بھی اسے خصائص مذکورہ سے گنا وفی الحدیث وجوہ اخر۔
حدیث ۲۴:صحیح مسلم وسنن نسائی وابن ماجہ ومسند امام احمد میں زینت بنت ام سلمہ رضی الله تعالٰی عنہا سے ہے ام المومنین صدیقہ رضی الله تعالٰی عنہا نے فرمایا ابوحذیفہ کی بی بی رضی الله تعالٰی عنہما نے عرض کی:یارسول اللہ!سالم(غلام آزاد کردہ ابو حذیفہ رضی الله تعالٰی عنہما)میرے سامنے آتا جاتاہے اووہ جوان ہے ابوحذیفہ کو یہ ناگوار ہے،سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:ارضعیہ حتی یدخل علیك تم اسے دودھ پلادو کہ بے پردہ تمہارے پاس آنا جائز ہوجائے۔ام المومنین ام سلمہ وغیرہا باقی ازواج مطہرات رضی الله تعالٰی عنہن نے فرمایا:
|
مانرٰی ھٰذہٖ الا رخصۃ ارخصھا رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لسالم خاصۃ[1]۔ |
ہمارا یہی اعتقاد ہے کہ یہ رخصت حضور سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے خاص سالم کے لیے فرمادی تھی۔ |
حدیث ۲۵:ابن سعد وحاکم میں بطریق عمرہ بنت عبدالرحمن خودسہلہ زوجہ ابی حذیفہ رضی الله تعالٰی عنہما سے مضمون مذکور، مروی کہ انہوں نے جب حال سالم عرض کیا فامرھا ان ترضعیہ[2] حضور نے دودھ پلادینے کا حکم فرمایا،انہوں نے دودھ پلا دیا اور سالم اس وقت مردجوان تھے جنگ بدر میں شریك ہوچکے تھے۔جو ان آدمی کو اول تو عورت کا دودھ پینا ہی کب حلا ل ہے پئے تو اس سے پسر رضاعی نہیں ہوسکتا مگر حضور نے ان حکموں سے سالم رضی الله تعالٰی عنہ کو مستثنی فرمادیا۔
[1] صحیح مسلم کتاب الرضاع فصل رضاعۃ الکبیر قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۶۹،سنن النسائی کتاب النکاح باب رضاع الکبیر نور محمد کارخانہ کراچی ۲/۸۳،سنن ابن ماجہ ابواب النکاح باب رضاع الکبیر ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۴۱،مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی الله عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/۳۹و۱۷۴و۲۴۹،مسند احمد بن حنبل حدیث سہلۃ امرأۃ حذیفہ رضی الله عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/۳۵۶
[2] الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکر سالم مولٰی ابی حذیفہ دارصادر بیروت ۳/۸۶و۸۷،المستدرك للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ الرضاع فی الکبیر الخ دارالفکر بیروت ۴/۶۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع