30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:تم موجود تو تھے ہی نہیں تم نے گواہی کیسے دی؟عرض کی:
|
بتصد یقك یارسول الله [1] (وفی الثانی)صدقتك بما جئت بہ وعلمت انك لاتقو ل الا حقا[2] (وفی الثالث) انا اصدقك علی خبر السماء والارض الا اصدقك علی الاعرابی [3]۔ |
یارسول اللہ!میں حضور کی تصدیق سے گواہی دے رہاہوں میں حضور کے لائے ہوئے دین پر ایمان لایا ہوں اور یقین جانا کہ حضور حق ہی فرمائیں گے میں آسمان وزمین کی خبروں پر حضور کی تصدیق کرتاہوں کیا اس اعرابی کے مقابلے میں تصدیق نہ کروں۔ |
اس کے انعام میں حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے ہمیشہ ان کی گواہی دو مردکی شہادت کے برابر فرمادی اورارشاد فرمایا:
|
من شھد لہ خزیمۃ او شھد علیہ فحسبہ[4]۔ |
خزیمہ جس کسی کے نفع خواہ ضرر کی گواہی دیں ایك انہیں کی شہادت بس ہے۔ |
ان احادیث سے ثابت کہ حضور نے قرآن عظیم کے حکم عام" وَّ اَشْہِدُوۡا ذَوَیۡ عَدْلٍ مِّنۡکُمْ"[5]۔(اوراپنے میں دو ثقہ کو گواہ کرلو۔ ت)سے خزیمہ رضی الله تعالٰی عنہ عنہ کو مستثنٰی فرمادیا۔
حدیث۲۰:صحاح ستہ میں ابوہریرہ رضی الله تعالٰی عنہ سے کہ ایك شخص نے بارگاہ اقدس میں
[1] سنن ابی داؤد کتاب القضاء باب اذا علم الحاکم صدق الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/۱۵۲وشرح معانی الآثار کتاب القضاء والشہادات حدیث کفایۃ شہادۃ خزیمہ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۳۱۰
[2] کنزالعمال بحوالہ ع حدیث ۳۷۰۳۸مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳/۳۷۹والمعجم الکبیر حدیث ۳۷۳۰المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۴/۸۷ واسدالغابۃ ترجمہ ۱۴۴۶خزیمۃ بن ثابت دارالفکر بیروت ۱/۶۹۷
[3] کنزالعمال حدیث ۳۷۰۳۹مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۳/۳۸۰
[4] المعجم الکبیر عن خزیمہ حدیث ۳۷۳۰ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۴/۸۷وکنزالعمال بحوالہ مسند ابی یعلٰی وغیرہ حدیث ۳۷۰۳۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۳/۳۸۰، التاریخ الکبیر حدیث ۲۳۸دارالباز للنشر والتوزیع مکۃ المکرمۃ ۱/۸۷
[5] القرآن الکریم ۶۵/۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع