30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث۱۴:احمد طبرانی میں مصعب بن نوح سے ہے ایك بڑی بی عــــــہ نے وقت بیعت نوحے کا بدلہ اتارے کا اذن چاہا،فرمایا: اذھبی فکافیھم[1]۔جاؤ عوض کرآؤ۔
|
اقول:فظاھر ان کلا رخصۃ تختص بصاحبتھا لاشرکۃ فیھا لغیرھا فلاینکر بما ذکرنا علی قول النووی ان ھذا محمول علی الترخیص لام عطیۃ فی اٰل فلان خاصۃ وبمثلہ یندفع ما استشکلوا من التعارض فی حدیثی التضحیۃ لابی بردۃ وعقبۃ لاسیما مع زیادۃ البیھقی المذکورۃ فانہ حکم لاخبر ولاشك ان الشارع اذا خص ابابردۃ کان کل من سواہ داخلًا فی عموم عدم الاجزاء وکذا حین خص عقبۃ فصدق فی کل مرۃ لن تجزی احدً ا بعد فافھم فقد خفی علی کثیر من الاعلام۔ |
میں کہتاہوں ظاہر ہے کہ ہر رخصت صاحت رخصت کے ساتھ مختص ہوتی ہے۔اس میں کسی غیر کی شرکت نہیں ہوتی۔چنانچہ جو ہم نے ذکر کیا اس کی وجہ سے امام نووی کے قول کا انکار نہیں ہوتاکہ بیشك یہ بطور خاص آل فلاں کے بارے میں ام عطیہ کو رخصت دینے پر محمول ہے۔اوراسکی مثل سے قربانی کے بارے میں ابو بردہ اورعقبہ کی حدیثوں میں واقع تعارض کا اشکال بھی مندفع ہوجاتاہے خصوصًا اس زیادتی کے ساتھ جو بیہقی میں مذکور ہے کہ بیشك یہ حکم ہے خبر نہیں ہے اور اس میں شك نہیں کہ شارع علیہ السلام نے جب ابو بردہ کو مختص فرمایا تو ان کے ماسوا ہر ایك عدم اجزا ء کے عموم میں داخل ہوگیا۔اسی طرح جب عقبہ کو خاص فرما دیا تو ہر مرتبہ یہ بات صادق آئی کہ تیرے بعد ہرگز یہ کسی کے لیے کفایت نہیں کرے گا،تو سمجھ لے،تحقیق بہت سے علماء پر یہ بات مخفی رہی۔(ت) |
حدیث ۱۵:طبقات ابن سعد میں اسماء بنت عمیس رضی الله تعالٰی عنہا سے ہے جب ان کے
عــــــہ:محتمل ہے کہ یہ بی بی ام عطیہ ہوں لہذا واقعہ جدا گانہ نہ شمار ہوا ۱۲منہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع