30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال لہ فی فریضۃ الحج اکل عام یارسو ل الله قال لا و لو قلت نعم لو جبت وقد کان صلی الله تعالٰی علیہ و سلم یخفف علی امتہ وینھاھم عن کثرۃ السؤال و یقول اترکونی ماترکتم [1]اھ باختصار۔ |
کیا حج ہر سال فرض ہے ؟ فرمایا:نہ،اوراگر میں ہاں کہہ دوں تو ہرسال فرض ہوجائے اورپھر تم سے نہ ہوسکے اوریہی وجہ ہے کہ حضور اپنی امت پر تخفیف وآسانی فرماتے اورمسائل زیادہ پوچھنے سے منع کرتے اورفرماتے ہیں مجھے چھوڑے رہو جب تك میں تمہیں چھوڑوں۔ |
اقول:یہ مضمون بھی کہ ''میں نماز عشاکو مؤخر فرمادیتا''متعدد احادیث صحیحہ میں ہے۔
حدیث ۴:ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما معجم کبیر طبرانی میں سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
لولا ضعف الضعیف وسقم السقیم لاخرت صلوٰۃ العتمۃ[2]۔ |
اگرضعیف کے ضعف اورمریض کے مرض کا پاس نہ ہوتا تو میں نماز عشاکو پیچھے ہٹادیتا۔ |
حدیث ۵:ابی سعید خدری رضی الله تعالٰی عنہ مسند احمد وسنن ابی داؤد وابن ماجہ وغیرہا میں یوں ہے کہ رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
لولا ضعف الضعیف وسقم السقیم وحاجۃ ذی الحاجۃ لاخرت ھذہ الصلوٰۃ الی شطر اللیل [3]۔ و رواہ ابن ابی حاتم بلفظ لولا ان یثقل علی امتی لاخرت صلوٰۃ العشاء الی ثلث اللیل[4]۔ |
اگر کمزور کی ناتوانی اوربیمار کے مرض اورکامی کے کام کا خیال نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تك موخر فرما دیتا۔ ابن ابی حاتم نے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا:اگر میں اپنی امت پر بوجھ محسوس نہ کرتا تو میں عشاء کو تہائی رات تك ہٹا دیتا۔(ت) |
[1] میزان الشریعۃ الکبرٰی فصل شریف فی بیان الذم من الائمۃ الخ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/۶۷
[2] المعجم الکبیر عن عباس حدیث ۱۲۱۶۱ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱/۴۰۹
[3] سنن ابی داودکتاب الصلوٰۃ باب وقت العشاء آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۶۱،سنن ابن ماجۃ کتاب الصلوٰۃ باب وقت العشاء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۵۰،مسند احمد بن حنبل عن ابی سعید الخدری المکتب الاسلامی بیروت ۳/۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع