30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
کان الحق تعالٰی جعل لہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ان یشرع من قبل نفسہ ماشاء کما فی حدیث تحریم شجر مکۃ فان عمّہ العباس رضی الله تعالٰی عنہ لما قال لہ یارسول الله الا الاذخر فقال صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الا الاذخر ولو ان الله تعالٰی لم یجعل لہ ان یشرع من قبل نفسہ لم یتجرّأ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ان یستثنی شیئامما حرمہ الله تعالٰی[1]۔ |
یعنی حضرت عزت جل جلالہ نے نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو یہ منصب دیا تھا کہ شریعت میں جو حکم چاہیں اپنی طرف سے مقررفرمادیں جس طرح حرم مکہ کے نباتات کو حرام فرمانے کی حدیث میں ہے کہ جب حضور نے وہاں کی گھاس وغیرہ کاٹنے سے ممانعت فرمائی حضور کے چچا حضرت عباس رضی الله تعالٰی عنہ نے عرض کی:یارسول اللہ!گیاہ اذخر کو اس حکم سے نکال دیجئے۔فرمایا:اچھا نکال دی،اس کا کاٹنا جائز کردیا۔اگر الله سبحانہ نے حضور کو یہ رتبہ نہ دیاہو تاکہ اپنی طرف سے جو شریعت چاہیں مقررفرمائیں تو حضور ہرگز جرأت نہ فرماتے کہ جو چیز خدا نے حرام کی اس میں سے کچھ مستثنٰی فرمادیں۔ |
اقول:یہ مضمون متعدد احادیث صحیحہ میں ہے:
حدیث۱:ابن عباس رضی الله تعالٰی عنہما صحیحین میں:
|
فقال العباس رضی الله تعالٰی عنہ الا الا ذخر لساغتنا وقبورنا،فقال الا الا ذخر [2]۔ |
یعنی عباس رضی الله تعالٰی عنہ نے عرض کی یارسول اللہ!مگر اذخِر کہ وہ ہمارے سناروں اورقبروں کے کام آتی ہے۔فرمایا: مگر اذخِر۔ |
حدیث۲:ابی ہریرہ رضی الله عنہ نیز صحیحین میں:
|
قال رجل من قریش الا الاذخر |
ایك مرد قریش نے عرض کی:مگر اذخِر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع