30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
''انبیاء اولیاء کو جو الله نے سب لوگوں سے بڑا بنایا سو ان میں بڑائی یہی ہوتی ہے کہ الله کی راہ بتاتے ہیں اوربرے بھلے کاموں سے واقف ہیں سولوگوں کو سکھلاتے ہیں[1]"۔صرف بتانے جاننے پہچاننے پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ حکم ان کے ہیں فرائض کو انہوں نے فرض کیا محرمات کو انہوں نے حرام کردیا۔
آخر ہمیں جو احکام معلوم ہوئے اپنے بزرگوں سے آئے انہیں ان کے اگلوں نے بتائے،یونہی طبقہ بطبقہ تبع کو تابعین،تابعین کو صحابہ،صحابہ کو سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے،تو کیا کوئی یوں کہے گا کہ نماز میرے باپ نے فرض کی ہے یا زنا کو میرے استاد نے حرام کردیا۔نبی کی نسبت اگر یوں کہئے گا تو وہی ذاتی عطائی کا فرق مان کر،اورکسی کی راہ ماننے اور اس کا حکم سند جاننے کو ان افعال سے گن چکا جو الله تعالٰی نے اپنی تعظیم کے لیے خاص کئے ہیں اورانہیں غیر کے لیے کرنے کا نام اشراك فی العبادۃ رکھا،اوراس قسم میں بھی مثل دیگر اقسام تصریح کی کہ:
''پھر خواہ یوں سمجھے کہ یہ آپ ہی اس تعظیم کے لائق ہیں یا یوں سمجھے کہ انکی اس طرح کی تعظیم سے الله خوش ہوتاہے ہر طرح شرك ثابت ہوتاہے ''[2]۔ توذاتی وعطائی کا تفرقہ دین نجدی میں قیامت کا تفرقہ ڈال دے گا۔وہ صاف کہہ چکا:''نہیں حکم کسی کا سوائے الله کے اس نے تو یہی حکم کیا ہے کہ کسی کو اس کے سوا مت مانو''[3]۔
جب رسول کو ماننے ہی کی نہ ٹھہری تو رسول کو حاکم ماننا اورفرائض ومحرمات کو رسول کے فرض وحرام کردینے سے جاننا کیونکر شرك نہ ہوگا،غرض وہ اپنی دھن کا پکا ہے،ولہذا محمدر سول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے کس قدرتاکید شدید سے مدینہ طیبہ کے گردو پیش کے جنگل کا ادب فرض کیا اوراس میں شکار وغیرہ منع فرمایا،مگر یہ جو ارشادہوا کہ ''مدینے کو حرم میں کرتا ہوں۔ "اس چوٹی کے موحدنے کہ جا بجا کہتاہے کہ "خدا کے سواکسی کو نہ مانو''صاف صاف حکم شرك جڑدیا اورالله واحد قہار کے غضب کا کچھ خیال نہ کیا" وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۲۲۷﴾٪
"[4](اور اب جان جائیں گے ظالم کہ کس کروٹ پلٹا کھائیں گے۔ت) تو مناسب ہواکہ بعض احادیث وہ بھی ذکر کرجائیں جن میں احکام تشریعیہ کی اسناد صریح ہے،اوراب اس قسم کی خاص دو آیتوں کا ذکر بھی محمود،اگرچہ آیات گزشتہ سے بھی دوآیتوں میں یہ مطلب موجود،اوران کے ذکر سے جب عدد آیات انصاف عقود سے متجاوز ہوگا توتکمیل عقد کے لیے تین آیتوں کا اوربھی اضافہ ہوکہ پچاس کا عدد پورا ہوجس طرح احادیث میں بعونہٖ تعالٰی پانچ خمسین یعنی ڈھائی سو کا عدد کامل ہوگا،ورنہ استیعاب آیات عــــــہ میں منظور،نہ احادیث میں مقدور،والله الھادی الی منائر النور،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع