30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں جوشخص حضور اکرم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کی زیارت سراپا طہارت کے لیے مدینہ طیبہ کو چلے اگرچہ چار پانچ ہی کو س کے فاصلے سے(کہ کہیں وہابیت کے شرك شدالرحال کا ماتھا نہ ٹھنکے)اس پر راستے میں بے ادبیاں بیہود گیاں کرتے چلنافرض عین وجز ایمان ہے یہاں تك کہ اگراپنے مالك وآقا صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے عظمت وجلال کے خیال سے باادب مہذب بن کر چلے گا اس کے نزدیك مشرك ہوجائے گا۔اسی کتاب ضلالت مآب کے اسی مقام میں "رستے میں نامعقول باتیں کرنے سے "[1]۔ بچنا بھی انہیں امورمیں گنادیا جنہیں خدا پر افترًا کہتاہے ''یہ سب کام الله نے اپنی عبادت کے لیے اپنے بندوں کوبتائے ہیں جو کوئی کسی پیر وپیغمبر کے لیے کرے اس پرشرك ثابت ہے ''[2]
سبحان الله!نامعقول باتیں کرنا بھی جزو ایمان نجدیہ ہے بَلکہ سچ پوچھو تو ان کا تمام ایمان اسی قدر ہے وہ تو خیریہ ہو گئی کہ مجتہد الطائفہ کو یہ عبارت لکھتے وقت آیہ کریمہ " فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوۡقَۙ وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّؕ"[3] (تو نہ عورتوں کے سامنے صحبت کا تذکرہ ہو نہ کوئی گناہ نہ کسی سے جھگڑا حج کے وقت۔ت)پوری یاد نہ آئی ورنہ راہ مدینہ طیبہ میں فسق وفجور کرتے چلنا بھی فرض کہہ دیتا وہ بھی ایسا کہ جو وہاں فسق سے بازآئے مشرك ہوجائے،ولاحول ولا قوۃ الابالله العلی العظیم۔
لطیفہ حَقّہ:حضرات نجدیہ!خداراانصاف،کیا افعال عبادت سے بچنا انبیاء واولیاء ہی کے معاملے سے خاص ہے آپس میں ایك دوسرے کے ساتھ شرك کے کام جائز،نہیں نہیں جو شرك ہے ہر غیر خدا کے ساتھ شرك ہے،تو آپ حضرات جب اپنے کسی نذیر بشیر یا پیر فقیر یا مرید رشید یا دوست عزیز کے یہاں جایا کیجئے تو راستے میں لڑتے جھگڑتے ایك دوسرے کا سر پھوڑتے ماتھا رگڑتے چلا کیجئے ورنہ دیکھو کھلم کھلا مشرك ہوجاؤ گے ہرگز مغفرت کی بو نہ پاؤگے کہ تم نے غیر حج کی راہ میں ان باتوں سے بچ کر وہ کام کیا جو الله نے اپنی عبادت کے لیے اپنے بندوں کوبتایا تھا اوراس جوتی پیزار میں یہ نفع کیسا ہے کہ ایك کام میں تین مزے، جدال ہونا تو خود ظاہر اورجب بلاوجہ ہے تو فسوق بھی حاضر اور رفث کے معنی ہر معقول بات کے ٹھہرے تو وہ بھی حاصل۔ایك ہی بات میں ایمان نجدیت کے تینوں رکن کامل۔ولا حول ولا قوۃ الا بالله العلی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع