30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث ۲۴:مسند الفردوس میں عبدالله بن مسعود رضی الله تعالٰی عنہ سے کہ رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
یبعث الله عزوجل من ھٰذہ البقعۃ ومن ھذا الحرم سبعین الفا یدخلون الجنۃ بغیر حساب یشفع کل واحد منھم فی سبعین الفاوجوھھم کالقمر لیلۃ البدر[1]۔ |
الله تعالٰی روز قیامت اس بقیع اوراس حرم سے ستر ہزار شخص ایسے اٹھائے گا کہ بیحساب جنت میں جائیں گے اوران میں ہر ایك ستر ہزار کی شفاعت کرے گا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے۔ |
اوراگر وہ حدیثیں گنی جائیں جن میں مکہ معظمہ ومدینہ طیبہ کو حرمین فرمایا تو عدد کثیر ہیں،بالجملہ حدیثیں اس باب میں حدتواتر پر ہیں،تو بالیقین ثابت کہ مصطفٰی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کے جنگل کا بتاکید تام واہتمام تمام وہی ادب مقرر فرمادیا جو مکہ معظمہ کے جنگل کا ہے،
بایں ہمہ طائفہ تالفہ وہابیہ کا امام بد فرجام بکمال دریدہ دہنی صاف صاف لکھ گیا:''گردوپیش کے جنگل کا ادب کرنا یعنی وہاں شکار نہ کرنا،درخت نہ کاٹنا،یہ کام الله نے اپنی عبادت کے لیے بتائے ہیں پھر جوکوئی کسی پیر،پیغمبر یا بھوت وپری کے مکانوں کےگردوپیش کے جنگل کا ادب کرے تو اس پرشرك ثابت ہے''[2]
کیوں،ہم نہ کہتے تھے کہ یہ ناپاك مذہب ملعون مشرب اسی لئے نکلا ہے کہ الله ورسول تك شرك کا حکم پہنچائے پھر اورکسی کی کیا گنتی۔تف ہزار تف بر روئے بددینی۔اب دیکھنا ہے کہ اس امام بے لگام کے مقلد کہ بڑے موحّد بنے پھرتے ہیں اپنے امام کا ساتھ دیتے ہیں یا محمد رسول الله پڑھنے کی کچھ لاج رکھتے ہیں۔الله کے بے شمار درودیں محمدرسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اوران کے ادب داں غلاموں پر۔
تنبیہ نبیہ:مسلمانو!صرف یہی نہ سمجھنا کہ اس گمراہ امام الطائفہ کے نزدیك حرم محترم حضور پرنورمالك الامم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا ادب ہی شرك ہے،نہیں نہیں بَلکہ اس کے مذہب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع