30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنے ساتھ مسند پر بٹھایا اورفرمایا کیسے آئے ہو؟ انہوں نے اپنی حاجت عرض کی،امیر المومنین نے فورًا روافرمائی،پھر ارشادکیا؛ اتنے دنوں میں تم نے اس وقت اپنی حاجت کہی۔اورفرمایا:جب کبھی تمہیں کوئی حاجت پیش آئے ہمارے پاس آنا۔اب یہ صاحب امیر المومنین کے پاس سے نکل کر حضرت عثمان بن حنیف رضی الله تعالٰی عنہ سے ملے ان سے کہا:الله تعالٰی آپ کو جزائے خیر دے امیر المومنین نہ میری حاجت میں غور فرماتے تھے نہ میری طرف التفات لاتے،یہاں تك کہ آپ نے میری سفارش ان سے کی۔عثمان بن حنیف نے فرمایا:
|
والله ماکلمتہ ولٰکن شہدت رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم واتاہ رجل ضریر تشکی الیہ ذھاب بصرہ فقال لہ النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وسلم ایت المیضاۃ فتوضا ثم صل رکعتین ثم ادع بھٰذہ الدعوات فقال عثمان بن حنیف فوالله ماتفرقنا وطال بنا الحدیث [1]حتی دخل علینا الرجل کانہ لم یکن بہ ضر قط۔ |
خدا کی قسم!میں نے تو تمہارے بارے میں امیر المومنین سے کچھ بھی نہ کہا مگر ہے یہ کہ میں نے سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو دیکھا حضور کی خدمت اقدس میں ایك نابینا حاضر ہوا اوراپنی نابینائی کی شکایت حضور سے عرض کی،حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:موضع وضو پر جاکر وضو کر کے دورکعت نماز پڑھ پھر یہ دعائیں پڑھ۔عثمان بن حنیف رضی الله تعالٰی عنہ فرماتے ہیں خدا کی قسم!ہم اٹھنے بھی نہ پائے تھے باتیں ہی کر رہے تھے کہ وہ نابینا ہمارے پاس انکھیارے ہوکر آئے گویا کبھی انکی آنکھوں میں کچھ نقصان نہ تھا۔ |
امام طبرانی اس حدیث کی متعدد اسنادیں ذکر کر کے فرماتے ہیں:والحدیث صحیح[2]۔یہ حدیث صحیح ہے۔والحمدلله رب العالمین۔
حدیث ۱۲۹:کہ سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے اہل مدینہ طیبہ سے ارشاد فرمایا:
|
اصبروا و ابشروا فانی قد بارکت |
صبرکرو اور شاد ہوکہ بیشك میں نے تمہارے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع