30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ثم اقول:(پھر میں کہتاہوں۔ت)سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے اپنے زمانہ اقدس میں نابینا کو دعاتعلیم فرمائی کہ بعد نماز یوں عرض کرو ہمارا نام پاك لے کر ندا کرو ہم سے استمداد والتجا کرو،شرك وہابیت کو قعرجہنم میں پہنچانے کو بس یہی تھا کہ:
اولًا: جو شرك ہے اس میں تفرقہ زمانہ حیات وبعد وفات یاتفرقہ قرب وبُعد یا غیبت وحضور سب مردود ومقہور،جس کا بیان اوپر مذکور۔
ثانیًا: حاصل تعلیم یہ نہ تھا کہ دو رکعت نماز پڑھ کر دعا کا بالائی ٹکڑا تو الله عزوجل سے عرض کرنا پھر ہمارے پاس حاضر ہوکر یا محمد سے اخیر تك عرض کرنا،اور دعا میں سنت اخفاہے اورآہستہ کہنے میں وہابیت کی عقل ناقص پر غیبت وحضور یکساں ہے، عادی طورپر دونوں ندا بالغیب ہوں گی،مگر قیامت تو سیدنا عثمان بن حنیف رضی الله تعالٰی عنہ نے پوری کردی کہ زمانہ خلافت امیر المومنین عثمان غنی رضی الله تعالٰی عنہ میں یہی دعا ایك صاحب حاجتمند کو تعلیم فرمائی اورندا بعدالوصال سے جان وہابیت پر آفت عظمٰی ڈھائی۔معجم کبیر امام طبرانی میں یہ حدیث یوں ہے کہ ایك شخص امیر المومنین عثمان غنی رضی الله تعالٰی عنہ کی بارگاہ میں اپنی کسی حاجت کے لیے حاضر ہوا کرتے امیر المومنین ان کی طرف التفات نہ فرماتے نہ ان کی حاجت پر غور کرتے،ایك دن عثمان بن حنیف رضی الله تعالٰی عنہ ان سے ملے ان سے شکایت کی،عثمان بن حنیف رضی الله تعالٰی عنہ نے فرمایا:
|
ائت المیضاۃ فتوضا ثم اٰت المسجد فصل فیہ رکعتین ثم قل اللھم انی اسئلك واتوجہ الیك بنینا محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نبی الرحمۃ یا محمد انی اتوجہ بك الی ربی فیقضی حاجتی وتذکر حاجتك و رح الی حتی اروح معك۔ |
وضو کی جگہ جاکر وضو کروپھر مسجد میں جاکر دورکعت نماز پڑھو پھر یوں دعاکرو کہ الٰہی!میں تجھ سے سوال کرتا اور تیری طرف ہمارے نبی محمدصلی الله تعالٰی علیہ وسلم نبی رحمت کے ذریعے سے متوجہ ہوتا ہوں،یارسول اللہ!میں حضور کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف توجہ کرتاہوں کہ میری حاجت روا فرما ئیے۔اوراپنی حاجت کا ذکر کرو،شام کو پھر میرے پاس آنا کہ میں بھی تمہارے ساتھ چلوں۔ |
صاحبِ حاجت نے جاکر ایسا ہی کیا،پھر امیر المومنین رضی الله تعالٰی عنہ کے دروازے پر حاضر ہوئے،دربان آیا ہاتھ پکڑ کر امیر المومنین کے حضور لے گیا،امیر المومنین(عثمان غنی)نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع