30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فقال اوغیر ذٰلك قلت ھو ذاك قال فاعنی علی نفسك بکثرۃ السجود[1]۔ |
اپنی رفاقت عطافرمائیں۔فرمایا:کچھ اور؟میں نے عرض کی: میری مراد تو صرف یہی ہے۔فرمایا:تو میری اعانت کر اپنے نفس پر کثرت سجودسے۔ |
ع کہ حیف باشداز وغیر اوتمنائے
(حیف ہے اس سے اس کے غیر کی تمنا کرنا۔ت)
؎ سائل ہوں تر امانگتاہوں تجھ سے تجھی کو
معلوم ہے اقرار کی عادت تری مجھ کو
سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:"تو میری اعانت کر اپنے نفس پرکثرت سجود سے۔"
الحمدلله یہ جلیل ونفیس حدیث صحیح اپنے ہر ہرجملے سےوہابیت کش ہے۔حضور اقدس خلیفۃ الله الاعظم صلی الله تعالٰی علیہ و سلم کا مطلقًا بلا قید وبلا تخصیص ارشاد فرمانا سل مانگ کیا مانگتا ہے،جان وہابیت پرکیسا پہاڑ ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ حضور ہر قسم کی حاجت روا فرماسکتے ہیں دنیا وآخرت کی سب مرادیں حضور کے اختیار میں ہیں جب تو بلا تقیید ارشادہوا:مانگ کیا مانگتاہے یعنی جو جی میں آئے مانگو کہ ہماری سرکار میں سب کچھ ہے ؎
گر خیریت دنیا وعقبٰی آرزو داری بدرگاہش بیاوہرچہ میخواہی تمنا کن
(اگر تو دنیا وآخر ت کی بھلائی چاہتاہے تو اس کی بارگاہ میں آاور جو چاہتاہے مانگ لے۔ت)
شیخ شیوخ علماء الہند عارف بالله عاشق رسول الله برکۃ المصطفٰی فی ھذہ الدیار سیدی شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ القوی شرح مشکوٰۃ شریف میں اس حدیث کے نیچے فرماتے ہیں:
|
از اطلاق سوال کہ فرمودش بخواہ تخصیص |
مطلق سوال سے کہ آپ نے فرمایا(اے ربیعہ) |
[1] صحیح مسلم کتاب الصلٰوۃ باب فضل السجود والحث علیہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۹۳،سنن ابی داود کتاب الصلٰوۃ باب وقت قیام النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم من اللیل آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۱۸۷،کنز العمال حدیث ۱۹۰۰۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۷/۳۰۶،المعجم الکبیر عن ربیعہ حدیث ۴۵۷۶ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۵/۵۷و۵۸
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع