30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ویخبرنی بما یجری فیہ وعزۃ ربی ان السعداء و الاشقیاء لیعرضون علی عینی فی اللوح المحفوظ انا غائص فی بحار علم الله ومشاھد تہ انا حجۃ الله علیکم جمیعکم انا نائب رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ووارثہ فی الارض [1]۔صدقت یا سید ی والله فانما انت کلمت عن یقین لاشك فیہ ولاوھم یعتریہ انما تنطق فتنطق وتعطی فتفرق وتؤمر فتفعل والحمدلله رب العالمین۔ |
کا وارث ہوں۔سچ فرمایا ہے آپ نے اے میرے آقا،بخدا آپ یقین پر مبنی کلام فرماتے ہیں جس میں کوئی شك اوروہم راہ نہیں پاتا۔بے شك آپ سے کوئی با ت کہی جاتی ہے تو آپ کہتے ہیں اورآپ کو عطا ہوتاہے توآپ تقسیم فرماتے ہیں۔ زآپ کوامر کیا جاتاہے تو آ پ عمل کرتے ہیں۔اورسب تعریفیں الله رب العالمین کے لیے۔(ت) |
اس حدیث کے متعلق کلام نے قدرے طو ل پایا مگر الحمدلله کہ مقصود رسالہ سے باہر نہ آیا وبالله التوفیق۔
حدیث ۱۲۷:صحیح مسلم شریف وسنن ابی داود وسنن ابن ماجہ ومعجم کبیر طبرانی میں سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی الله تعالٰی عنہ سے ہے:
|
قال کنت ابیت مع رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ و سلم فاتیتہ بوضوئہ وحاجتہ فقال لی سل(ولفظ الطبرانی فقال یومًا یا ربیعۃ سلنی فاعطیك رجعنا الی لفظ مسلم)قال فقلت اسألك مرافقتك فی الجنۃ |
میں حضور پرنور سیدالمرسلین صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کے پاس رات کو حاضر رہتا ایك شب حضور کے لیے آب وضو وغیرہ ضروریات لایا(رحمت عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کا بحر رحمت جو ش میں آیا)ارشاد فرمایا:مانگ کیا مانگتا ہے کہ ہم تجھے عطا فرمائیں۔میں نے عرض کی:میں حضور سے سوال کرتاہوں کہ جنت میں |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع