30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خاص ہوچکی غیر خدا کے ساتھ شرك ٹھہر چکی،اس میں حیات وموت،قرب وبعد،ملکیت وبشریت خواہ کسی وجہ کاتفرقہ کیسا کیا بعد موت ہی شرکت خد اکی صلاحیت نہیں رہتی بحال حیات شریك ہوسکتے ہیں یہ جنو ن وہابیہ کو ہر جگہ جاگاہے جس نے انہیں حمایت توحید کے زعم میں الٹا مشرك بنا دیا ہے ایك بات کو کہیں گے شرك ہے پھر کبھی موت حیات کا فرق کرینگے کبھی قرب و بُعد کا کبھی کسی اوروجہ کا،جس کا صاف حاصل یہ نکلے گا کہ یہ انوکھے موحد بعض قسم مخلوق خدا کا شریك جانتے ہیں جب تو و ہ بات کہ غیر کے لیے اس کا اثبات شرك تھا ان کےلئے ثابت مانتے ہیں۔اب کھلا کہ انکے امام نے تقویۃ الایمان میں ان وہابی صاحبوں ہی کی نسبت کہا تھا کہ:
''اکثر لوگ شرك میں گرفتار ہیں اوردعوٰ ی مسلمانی کا کئے جاتے ہیں،سبحان الله یہ منہ اوریہ دعوٰی،سچ فرمایا الله صاحب نے کہ نہیں مسلمان ہیں اکثر لوگ،مگر شرك کرتے ہیں''[1]۔
یہ نکتہ یادرکھنے کا ہے کہ انکی بہت فاحشہ جہالتوں کی پردہ دری کرتاہے وبالله التوفیق۔
حدیث ۱۲۶:طبرانی معجم اوسط میں بسند حسن سیدنا جابر بن عبدالله انصاری رضی الله تعالٰی عنہما سے راوی:
|
ان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم امر الشمس فتاخّرت ساعۃ من نھار[2]۔ |
سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے آفتاب کو حکم دیا کہ کچھ دیر چلنے سے باز رہ۔وہ فورًا ٹھہر گیا۔ |
اقول:اس حدیث حسن کا واقعہ اس حدیث صحیح کے واقعہ عظیمہ سے جدا ہے جس میں ڈوبا ہوا سورج حضور(صلی الله تعالٰی علیہ وسلم)کے لیے پلٹاہے یہاں تك کہ مولٰی علی کرم الله تعالٰی وجہہ الکریم نے نماز عصر کی خدمت گزاری محبوب باری صلی الله تعالٰی علیہ وسلم میں قضا ہوئی تھی ادا فرمائی۔امام اجل طحاوی وغیرہ اکابر نے اس حدیث کی تصحیح کی۔الحمد لله اسے خلافت رب العزت کہتے ہیں کہ ملکوت السمٰوٰت والارض میں ان کا حکم جاری ہے تمام مخلوق الٰہی کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع