30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
تعالٰی عنہ ولہ طرق وقد دخل بعضھا فی بعض۔ |
روایت کیا۔اس کے متعدد طرق ہیں جوکہ بعض بعض میں داخل ہیں۔ت) |
وہابیہ کہ گمراہی پسند وہلاکت دوست ہیں،ان سخت ترین بلِیات کو بلا کیوں سمجھیں گے کہ ان سے پناہ دینے والے نجات بخشنے والے نبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کو دافع البلاء جانیں۔
حدیث۱۲۵:جب وفد ہوازن خدمت اقد س حضور سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر ہوا اوراپنے اموال واہل وعیال کہ مسلمان غنیمت میں لائے تھے حضور سے مانگے اورطالب احسان والا ہوئے،حضور اقدس صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
اذا صلیتم الظھر فقولوا انا نستعین برسول الله علی المؤمنین اوالمسلمین فی نسائنا وابنائنا۔النسائی[1] عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہٖ عبدالله بن عمرو رضی الله تعالٰی عنہما۔ |
جب ظہر کی نماز پڑھ چکو تو کھڑ ے ہونا اوریوں کہنا ہم رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے استعانت کرتے ہیں مومنین پراپنی عورتوں اوربچوں کے باب میں(نسائی نے عمرو بن شعیب سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے اپنے دادا عبدالله بن عمر ورضی الله تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت) |
حدیث فرماتی ہے سید عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے بنفس نفیس تعلیم فرمائی کہ ہم سے مدد چاہنا نماز کے بعد یوں کہنا کہ ہم رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے استعانت کرتے ہیں۔
وہابی صاحبو!" اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیۡنُؕ﴿۴﴾"[2]۔کے معنی کہئے استعانت توخدا ہی کے ساتھ خاص تھی،یہ ارشاد کیسا ہے کہ ہم سے استعانت کرنا۔اور زمان حیات دنیاوی اوراس کے بعد کا تفرقہ وہابیہ کی جہالت ہی نہیں بَلکہ سراسر ضلالت ہے قطع نظر اس بات سے کہ انبیاء کرام علیہم الصلٰوۃ والسلام سب بحیات حقیقی دنیاوی جسمانی زندہ ہیں،جو بات خدا کے لیے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع