30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
؎ چودل بادلبر ے آرام گیرد زوصل دیگر ے کے کام گیرد
(جب ایك محبوب سے دل آرام پاتا ہے تو دوسرے کے وصل سے اسے کیا کام۔ت)
یا تو یوں ہی تڑپ کے جائیں یا وہی دام سے چھڑائیں منت غیر کوئی اٹھائی کوئی ترس جتائے کیوں
رباعی:اے واہ دہ حبیب راکلید ہمہ کار باران درود بررُخ پاکش بار
دستے کہ بدامان کریمش زدہ ایم زنہار بدست دیگر انش مسپار
(اے اللہ!اس حبیب کو ہرمعاملے کی چابی عطافرما اس کے رخ زیبا پر درود کی بارش برسا،جس ہاتھ سے ہم نے اس کا دامن کرم تھا ما ہے ہرگز ہم کو دوسروں کا دست نگر نہ بنا۔ت)
؎ تیرے ٹکڑوں پہ پلے غیر کی ٹھوکر پہ نہ ڈال
جھڑکیاں کھائیں کہاں چھوڑکے صدقہ تیرا
صلی الله تعالٰی علیك وسلم وعلٰی اٰلك وصحبك وبارك وکرم۔والحمدلله رب العالمین۔
خیر،ان اہل شر کے منہ کیا لگئے،مسلمان نظر فرمالیں کہ عیاذاً بالله نارجہنم سے سخت ترکون سی بلا ہوگی مگر اس کادافع دافع البلا نہیں ہے یہ کہ وہابیہ کے پا س نہ عقل ہے نہ دین،ولا حول ولا قوۃ الابالله العلی العظیم۔
حدیث ۱۱۵:صحیح بخاری وصحیح مسلم ومسند امام احمد میں سیدنا عباس رضی الله تعالٰی عنہ سے ہے انہوں نے حضور اقدس رحمت عالم صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی کہ حضور نے اپنے چچا ابو طالب کو کیا نفع دیا خدا کی قسم وہ حضور کی حمایت کرتا حضور کیلئے لوگوں سے لڑتا جھگڑتا تھا،فرمایا:
|
وجدتہ فی غمرات من النار فاخرجتہ الی ضحضاحٍ[1]۔ |
میں نے اسے سراپا آگ میں ڈوبا پایا تواسے میں نے کھینچ کر پاؤں تك کی آگ میں کردیا۔صلی الله تعالٰی علیك وسلم۔ |
[1] صحیح البخاری باب بنیان الکعبہ قصہ ابی طالب ۱/۵۴۸ وکتاب الادب المشرك ۲/۹۱۷،صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۱۵،مسنداحمد بن حنبل عن عباس رضی الله عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۱/۲۰۶و۲۰۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع