30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حاضران گفتند کاے صدر الورٰی راست گو گفتی دو ضد گوراجرا
گفت من آئینہ ام مصقول دوست ترك وہندودرمن آں بیند کہ اوست[1]
(حاضرین نے عرض کی کہ اے سرورکائنات صلی الله تعالٰی علیہ وسلم!آپ نے دو متضاد بات کرنے والوں کو کیسے درست قرار دیا۔آپ نے ارشادفرمایا کہ میں دوست کا قلعی کیا ہوا آئینہ ہوں،ترك اورہندو مجھ میں وہی دیکھتاہے جیسا وہ خود ہے۔ت)
حضور پرنورشافع یوم النشور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
شفاعتی یوم القیٰمۃ حق فمن لم یؤمن بھا لم یکن من اھلھا۔ابن منیع فی معجمہ [2]عن زید بن ارقم وبضعۃ عشر من الصحابۃ رضی الله تعالٰی عنہم۔ |
روز قیامت میری شفاعت حق ہے تو جو اس پر یقین نہ لائے وہ اس کے لائق نہیں(ابن منیع نے اپنی معجم میں زید بن ارقم اور دس سے چند زائد صحابہ رضی الله تعالٰی عنہم سے روایت کیا۔ ت) |
علامہ مناوی تیسیر میں لکھتے ہیں:اطلق علیہ التواتر[3]۔اس حدیث کو متواترکہاگیا۔
بالجملہ وہ تمہارے لئے دافع البلاء نہ سہی مگر لا والله ہماراٹھکانا تو ان کی بارگاہ بیکس پناہ کے سوا نہیں ؎
منکر اپنا اورحامی ڈھونڈلیں آپ ہی ہم پر تورحمت کیجئے
بَلکہ لا والله اگر بفرض غلط بفرض باطل عالم میں ان سے جدا کوئی دوسر احامی بن کر آئے بھی توہمیں اس کا احسان لینا منظور نہیں وہ اپنی حمایت اٹھا کر رکھے ہمیں ہمارے مولائے کریم جل جلالہ نے بے ہمارے استحقاق بے ہماری لیاقت کے اپنے محبوب کا کر لیا اور اسی کی وجہ کریم کو حمد قدیم ہے اب ہم دوسرے کابننا نہیں چاہتے جس کا کھائیے اسی کا گائیے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع